برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہوگا (اے آئی تصویر)
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور اس کے بجائے سفارتی کوششوں کے ذریعے بحران حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور برطانیہ دنیا کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے عالمی سطح پر اجلاس بلانے جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ابتدائی طور پر امریکہ کو جن اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی، اب وہی ممالک واشنگٹن سے فاصلہ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں برطانیہ کا یہ فیصلہ امریکہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ان کا ملک اس تنازع میں فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا بلکہ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔
کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان پر مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ برطانیہ امریکہ کا ساتھ دے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے تمام فیصلے صرف برطانیہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ جنگ برطانیہ کی نہیں اور وہ اس تنازع میں شامل ہو کر اپنے ملک کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران جنگ کے باعث برطانیہ کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، تاہم حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ توانائی کی فراہمی، تجارتی سرگرمیوں اور سلامتی کے معاملات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ مغربی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا تک پھیل چکے ہیں۔ کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بعض ریاستوں نے ہنگامی اقدامات بھی نافذ کیے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بھی محتاط کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات بھی دیکھ رہے ہیں تاکہ جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اتحادی ممالک کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیے جانے کے بعد امریکہ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس دوران نیٹو پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ اتحاد میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو نے توقع کے مطابق حمایت فراہم نہیں کی اور واشنگٹن اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ کا جنگ سے دور رہنے کا فیصلہ عالمی سفارتی منظرنامے میں اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی اجلاس کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…