بین الاقوامی

Two hundred inmates managed to escape: کراچی کے جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار،ایک کی موت،تین زخمی، قیدیوں کی واپسی کیلئے مساجد سے ہورہے ہیں اعلانات

پاکستان کے شہر کراچی کی ملیر ڈسٹرکٹ جیل سے پیر کی رات گئے 216 قیدیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اور جیل حکام نے بتایا کہ قیدیوں کا فرار شہر میں زلزلے کے مسلسل ہلکے جھٹکوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی افراتفری کے درمیان ہوا۔ بہت سے قیدی پہلے ہی اپنی بیرکوں کے باہر موجود تھے، انہوں نے اس افراتفری کا فائدہ اٹھایا اور جیل کے عملے پر دباؤ ڈالا۔ اس کے بعد  تصادم بھی ہوا۔جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کی رات زلزلے کے دوران نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر بٹھایا گیا تھا، زلزلے کے دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔حکام کے مطابق قیدیوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، اور ماڑی کا گیٹ بھی توڑ ڈالا، ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو کے مطابق ملیر جیل میں سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے، پولیس، رینجرز اور ایف سی نے ملیر جیل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ملیر کے مختلف علاقوں میں لانڈھی جیل سے فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیے مساجد میں اعلان کا سلسلہ شروع کیا گیا، اعلانات میں شہریوں سے قیدیوں کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کی گئی۔سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے بتایا کہ جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعے میں ایک قیدی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے، جیل کی سرکل نمبر 4 اور 5 کے 600 سے زائد قیدی بیرک سے باہر تھے، 216 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 80 قیدی دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔انہوں نے کہا کہ 135 قیدیوں کی تلاش جاری ہے، واقعے میں 2 ایف سی اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ادھر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اعلان کیا ہے کہ ملیر جیل سے فرار قیدی سرینڈر کرتے ہیں تو ان سے نرمی برتی جائے گی، تاہم جس قیدی کو دوبارہ گرفتار کیا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بتایا ہے کہ ملیر جیل سے مجموعی طور پر 213 قیدی فرار ہوئے تھے، جن میں سے 78 کو پکڑ لیا گیا ہے، جب کہ تقریباً 138 کے قریب قیدی اب بھی مفرور ہیں۔آئی جی سندھ نے جیل سے فرار کی اصل صورت حال واضح کرتے ہوئے کہا ’’قیدی دیوار توڑ کر نہیں بلکہ جیل کے گیٹ سے فرار ہوئے، زلزلے کے بعد قیدیوں کو ایک احاطے میں بٹھایا گیا تھا تاکہ ان پر چھت نہ گر جائے۔‘انھوں نے بتایا کہ ملیر جیل میں زیادہ تر تعداد منشیات کے عادی قیدیوں کی ہے، منشیات کے عادی قیدیوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

29 minutes ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

41 minutes ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

1 hour ago

Saudi Arabia Flight Alert: ایئر انڈیا کی 20 اکتوبر تک پروازیں منسوخ، انڈیگو سمیت 4 ایئرلائنز متاثر

سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…

2 hours ago