بین الاقوامی

Russia-Ukrane War: جنگ بندی سے متعلق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے روسی صدر سے کی ملاقات، عنقریب ہوسکتی ہے ٹرمپ اور پوتن میں جنگ سے متعلق بات چیت

روس یوکرین جنگ کو روکنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل زیلنسکی اور پوتن سے بات کر رہے ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ پوتن کی جانب سے جنگ بندی کے لیے جو شرائط رکھی گئی تھیں، ان پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے 11 اپریل 2025 کو صدر پوتن سے ملاقات کی۔ ادھر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس وقت صدر ہوتے تو یہ جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا: ‘روس کو قدم بڑھانا چاہیے۔ بہت سے لوگ مر رہے ہیں۔ ایک خوفناک اور بے مقصد جنگ میں ہر ہفتے ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اگر میں صدر ہوتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔’

ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور پوتن کے درمیان ملاقات

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف ماسکو کے دورے پر ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے پوتن سے بات کرنے آئے ہیں۔ اسکائی نیوز کے مطابق پوتن اور اسٹیو وٹ کوف کی ملاقات سینٹ پیٹرزبرگ میں ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اس ملاقات کے نتائج کے حوالے سے روس یا امریکہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اسٹیو وٹکوف کا روس کا یہ تیسرا دورہ ہے۔

روس جنگ بندی کے لیے شرائط رکھ رہا ہے

اس ویب سائٹ نے لکھا، ‘روس نے کہا ہے کہ وہ امن اور جنگ بندی چاہتا ہے، لیکن اس نے سمجھوتہ یا رعایت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ وہ صرف شرطیں لگا رہا ہے۔ اسٹیو وٹکوف کے ماسکو کے مسلسل دورے امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی علامت ہیں۔

یوکرین نے امریکہ کی تجویز مان لی تھی

آپ کو بتاتے چلیں کہ 11 مارچ کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں امریکی اور یوکرین  حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جس میں یوکرین کے نمائندوں نے 30 دن کی جنگ بندی کی امریکہ کی تجویز کو قبول کیا تھا۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ پوتن نے جنگ بندی کے لیے کچھ شرائط رکھی تھیں۔

پوتن نے کیا شرط رکھی؟

پوتن نے کہا کہ ہم دشمنی ختم کرنے کی تجاویز سے متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم طویل مدتی امن کے حق میں ہیں۔ جنگ بندی دیرپا امن لائے گی۔ پوتن نے جنگ کے حل پر توجہ مرکوز کرنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی اصل وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ اور پوتن کے درمیان فون پر بات بھی ہوئی ،قابل ذکر بات یہ ہےکہ اب تک جنگ بندی پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

4 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

4 hours ago