بین الاقوامی

Russia Ukraine Energy Ceasefire: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان، روس اور یوکرین کے درمیان ’انرجی سیز فائر‘ نافذ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان ’انرجی سیز فائر‘ پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ یہ انتظام فوری طور پر نافذ ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس معاہدے پر عمل کریں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔

زیلنسکی کو بھی بعد میں ملی اعلان کی اطلاع

ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا بیان سامنے آیا ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ’Axios‘ کے حوالے سے زیلنسکی نے کہا کہ انہیں بھی ٹرمپ کے اس اعلان کی اطلاع بعد میں ملی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر روس واقعی توانائی کے شعبے سے متعلق جنگ بندی کے لیے تیار ہوتا ہے تو یوکرین بھی اس پر اتفاق کر سکتا ہے۔

زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کر دیتا ہے تو کیف بھی روس کی تیل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا روک سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کو مؤثر بنانے کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے یکساں اقدامات ضروری ہوں گے۔

ٹرمپ نے یوکرین پر لگایا تھا الزام

اس سے پہلے ہفتے کے روز ٹرمپ نے روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں کو امریکہ میں ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے جوڑتے ہوئے ان پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے زیلنسکی سے ایسے حملے روکنے کی اپیل بھی کی تھی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ یوکرین کو نئی قیادت منتخب کرنے پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق موجودہ قیادت روس کے ساتھ معاہدے کے کئی مواقع گنوا چکی ہے۔

ایران جنگ شروع ہونے کے بعد فروری سے ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یہ مسئلہ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

ٹھوس ضمانت کے بغیر معاہدہ نہیں

زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین توانائی کے شعبے میں کسی بھی جنگ بندی پر اسی وقت آگے بڑھے گا، جب اس کے ساتھ قابل اعتماد اور ٹھوس ضمانتیں بھی موجود ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس حملے روک دیتا ہے تو توانائی کے شعبے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

زیلنسکی نے روس کو جنگ کی بنیادی وجہ قرار دیا

یوکرینی صدر نے کہا کہ یورپ میں جاری تنازع کی بنیادی وجہ روس ہے۔ ان کے مطابق، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے آج ہی بند کیے جا سکتے ہیں، لیکن روس ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ دوسری جانب، ہفتے کے روز زیلنسکی نے روس کے ساتھ ٹرمپ کے ڈیزل سپلائی معاہدے پر بھی ناراضی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات ماسکو کو مزید جارحانہ بنا سکتے ہیں اور یوکرین پر روسی حملوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

6 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

7 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

7 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

8 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

8 hours ago