بین الاقوامی

We’re making a lot of money: تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکہ کو ہورہا ہے مالی فائدہ، ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا-’’ہم بہت پیسہ کمارہے ہیں‘‘

واشنگٹن: مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے دنیا کے کئی ممالک پریشان ہیں اور ایندھن کی کھپت کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکہ کو مالی فائدہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ چونکہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو امریکہ کو بھی اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہمیں بھی کافی فائدہ ہوتا ہے۔ ہم بہت پیسہ بنا رہے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے کیونکہ اس سے مغربی ایشیا اور پوری دنیا کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

عالمی تیل سپلائی میں بڑی رکاوٹ کا خدشہ

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے بڑھتے حملوں کے باعث دنیا کو تیل کی سپلائی میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بدھ کے روز اوہائیو میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں اگرچہ بڑھی ہیں لیکن یہ توقع سے کم ہیں اور جلد کم ہو جائیں گی۔ مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے رکن ممالک نے بدھ کے روز ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 32 رکن ممالک کے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا۔ ان ذخائر کو ہر ملک کی قومی صورتحال کے مطابق مرحلہ وار عالمی منڈی میں فراہم کیا جائے گا جبکہ کچھ ممالک اضافی ہنگامی اقدامات بھی کریں گے۔ بھارت نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے باعث سپلائی متاثر

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے رکن ممالک کے پاس مجموعی طور پر 1.2 ارب بیرل سے زیادہ ہنگامی تیل کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ صنعتوں کے پاس حکومتی ضابطوں کے تحت تقریباً 60 کروڑ بیرل اضافی ذخیرہ بھی موجود ہے۔ یہ آئی ای اے کی تاریخ میں چھٹی مرتبہ ہے جب رکن ممالک نے مشترکہ طور پر تیل کے ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے 1991، 2005، 2011 اور 2022 میں (دو مرتبہ) ایسے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی بنیاد 1974 میں رکھی گئی تھی۔ آئی ای اے کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس وقت خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی برآمدات تنازع سے پہلے کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UK Telford News: ٹیل فورڈ میں سکھ بس ڈرائیور پر حملہ، ملزم نے بس پر کیا قبضہ، 10 منٹ میں گرفتار

برطانیہ کے ٹیل فورڈ میں ایک شخص نے سکھ بس ڈرائیور پر حملہ کرنے کے…

53 minutes ago

Uttarakhand Glacier Melting Crisis: ٹائم بم پر بیٹھا ہے اتراکھنڈ: 34 برس میں 25 کلومیٹر سے زیادہ برف غائب، تیزی سے سکڑ رہے ہیں ہمالیائی گلیشیئر

اتراکھنڈ میں ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی تشویش ناک تصویر سامنے آئی ہے۔…

2 hours ago