نئی دہلی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تہران کے لیے “سر کچلے جانے سے پہلے آخری موقع” ہے، تو دوسری جانب انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور پیش رفت آئندہ ایک دن کے اندر بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اس وقت کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جلد یا بدیر معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کے بقول، “ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر بات کر رہے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ کل ہی یہ راستہ مکمل طور پر کھل جائے۔”دوسری طرف تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ تمام مذاکراتی حکام ایران میں موجود ہیں، لیکن امریکہ کے ساتھ کسی رابطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
صدر ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ ایرانی قیادت دوہرا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کی درخواست کرنے کے باوجود ایران عوامی سطح پر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران اس معاملے پر سلطنتِ عمان کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ان مشاورت کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے کے لیے ایک عارضی انتظامی طریقہ کار وضع کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسقط اور تہران کے درمیان جاری ان بات چیت میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔ادھر صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے اتوار کو ایران کے خلاف مجوزہ بڑے فضائی حملے کو آخری وقت میں روک دیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر علاقائی ممالک نے کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اتوار کو ان سے رابطہ کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو ترجیح دینے اور جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مجوزہ حملے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ایران خوفزدہ ہو گیا تھا اور مذاکرات کی خواہش ظاہر کرنے لگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 17 جون کو انہوں نے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن چند ہفتوں بعد آبنائے میں جہازوں پر حملوں اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث یہ معاہدہ عملی طور پر ختم ہو گیا۔ اس تمام صورت حال کے باعث آبنائے ہرمز سے عالمی بحری آمدورفت کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…