امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اب بھی نافذ العمل ہے۔ واضح رہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فوج مختلف حملوں میں 97 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ اسی دوران گذشتہ دنوں غزہ کے رفح میں اسرائیلی فوج کی گاڑی پر بھی نامعلوم عسکریت پسندوں نے حملہ کر دیا تھا۔ اسرائیل نے اس حملے کا الزام حماس کے القسام بریگیڈ پر عائد کرتے ہوئے غزہ میں مہلک فضائی حملے شروع کر دیے۔
جنگ بندی پر ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر کے طیارے ’ائیر فورس ون‘ میں سوار صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کہ کیا غزہ جنگ بندی ابھی بھی برقرار ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ’’ہاں، یہ برقرار ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج پر ہوئے حالیہ حملے میں حماس کی قیادت کسی بھی مبینہ خلاف ورزی میں ملوث نہیں تھی اور اس کے بجائے اس حملے کے لیے انہوں نے ’’اندر کے کچھ باغیوں” کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’لیکن جیسے بھی ہو ہم اس سے مناسب طریقے سے نمٹنے جا رہے ہیں۔ اس سے سختی سے نمٹا جائے گا، لیکن مناسب طریقے سے۔‘‘
جنگ بندی پر دوبارہ عمل درآمد شروع: اسرائیل
اتوار کے روز حماس کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد بالآخر اسرائیل نے بھی تصدیق کی کہ اس نے غزہ میں جنگ بندی پر دوبارہ عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ اس نے نو دن پرانی جنگ بندی کے آغاز کے بعد ہوئے سب سے سنگین تشدد حملے میں اس کے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی حملوں میں 45 افراد جاں بحق
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ بھر میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ وہ ہلاکتوں کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بی جے پی کا مقصد اس مہم کے ذریعے عوام تک اپنا موقف پہنچانا اور…
گورکھپور دورے کے دوسرے دن مندر پہنچے نتن نبین، تنظیمی عہدیداروں اور سابق ارکان پارلیمنٹ…
یہ معاملہ کے ایس ٹی پی کے تحت ایم سی روڈ کی توسیع کے کام…
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے افراد…
کارلوس نصر نے مقابلے میں اپنی تمام چھ کوششیں کامیابی سے مکمل کیں۔ انہوں نے…
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، دہلی کے سات مانیٹرنگ اسٹیشنوں…