نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائشی شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے دو نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے پیدائشی شہریت سے متعلق سابقہ حکم کو مسترد کر دیا تھا۔ نئے احکامات کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ نے نہ صرف ’برتھ ٹورزم‘ کو نشانہ بنایا ہے بلکہ پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہریت کے لیے نااہل قرار دیے جانے والے افراد کے دائرے کو بھی وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں نئے احکامات پر دستخط کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیدائشی حقِ شہریت کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ان کے حق میں بہت برا فیصلہ آیا تھا اور معاملہ انتہائی قریب تھا، اسی لیے اب تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔وائٹ ہاؤس کے مطابق، ان میں سے ایک ایگزیکٹو آرڈر خاص طور پر ’برتھ ٹورزم‘ کو نشانہ بناتا ہے۔
اس اصطلاح سے مراد ایسے غیر ملکی شہریوں کا نان امیگرنٹ ویزا پر امریکہ میں داخل ہونا ہے جن کا مقصد امریکی سرزمین پر بچے کو جنم دینا ہو۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کی امریکہ آمد میں کسی بھی طرح سہولت فراہم کرنے کی کوشش کو بھی اس پالیسی کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، دوسرے حکم میں پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہریت کے لیے نااہل قرار دیے جانے والے افراد کی تعریف کو مزید وسیع کیا گیا ہے۔ اس میں غیر ملکی حکومتوں کے ملازمین کے بچے، کسی باقاعدہ طور پر اعلان شدہ غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے ارکان کے بچے اور ایسے افراد کے بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی شہریت حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کا سہارا لیا ہو۔
14ویں ترمیم کا حوالہ
امریکی آئین کی 14ویں ترمیم 1868 میں نافذ ہوئی تھی۔ اس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے یا وہاں کی شہریت حاصل کرنے والے اور امریکی قوانین کے تابع تمام افراد کو امریکہ اور اس ریاست کا شہری قرار دیا گیا ہے جہاں وہ رہتے ہیں۔ پیدائشی شہریت کے معاملے میں اسی آئینی شق کو بنیادی قانونی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔20 جنوری 2025 کو اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز پر ٹرمپ نے پہلے بھی پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم یا عارضی ویزا پر موجود افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچے امریکی قانون کے تحت شہریت کے اہل نہیں ہوں گے۔اس حکم کے خلاف متعدد والدین نے عدالتوں سے رجوع کیا۔ کئی نچلی عدالتوں نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلے دیے، جس کے باعث ٹرمپ کا حکم عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔30 جون کو امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے ٹرمپ انتظامیہ کے اس حکم کے نفاذ کو روکنے کے معاملے میں فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد پیدائشی شہریت کے حق کو برقرار رکھا گیا اور انتظامیہ کے حکم پر قانونی تنازع مزید گہرا ہوگیا۔ اب ٹرمپ کے نئے احکامات نے امریکہ میں پیدائشی شہریت اور امیگریشن پالیسی پر بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…
76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…