واشنگٹن: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور مودی ایسے لیڈر ہیں جو معاملات کو نمٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بیان کے بعد سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا امریکہ مشرق وسطیٰ کے بحران میں بھارت کو ایک اہم ثالثی کردار دینا چاہتا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے ماحول میں ٹرمپ کا مودی کے حوالے سے اعتماد ظاہر کرنا سفارتی حلقوں میں غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کے بعد جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور وہ مودی کے ساتھ مل کر پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان محض تعریف نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سفارتی اشارہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس صورتحال پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کسی فریق کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرے گا۔ بھارتی قیادت نے زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر بھارت کامیابی سے ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے تو عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ تاہم کسی ایک فریق کی ناراضی کا خطرہ بھی موجود ہے، جسے بھارت کو سفارتی مہارت سے سنبھالنا ہوگا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی 28 فروری 2026 کو براہ راست حملوں کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی تھی۔ اس تنازعے نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دنیا کے تقریباً ایک تہائی خام تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کو امید ہے کہ بھارت جیسے ملک کی مداخلت سے کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ بھارت کے ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں گہرے تعلقات ہیں جبکہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون بھی مضبوط ہے۔ یہی توازن بھارت کو ایک ممکنہ ثالث بناتا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان دراصل ایک پیغام ہے کہ واشنگٹن نئی دہلی کو عالمی سطح پر امن ساز قوت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ بھارت محتاط انداز میں آگے بڑھے گا اور کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…