امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شام پر پابندیاں اٹھانے کا باضابطہ حکم جاری کردیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 جون 2025 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے شام پر عائد امریکی پابندیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جو کہ شام کی معاشی بحالی اور عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ رابطے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے اس حکم نامے کے مطابق 518 شامی افراد اور اداروں کو خصوصی طور پر نامزد قومی اور بلاک شدہ افراد کی فہرست (ایس ڈی این لسٹ) سے ہٹا دیاہے۔ یہ پابندیاں، جو 1979 سے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملک کے طور پر نامزد کرنے کے بعد سے نافذ تھیں، شام کی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ تھلگ رکھتی تھیں۔ اس اقدام کا مقصد شام کی نئی حکومت کی حمایت کرنا اور دہائیوں سے جاری تنازعے کے بعد ملک کی تعمیر نو کو فروغ دینا ہے، خاص طور پر دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد۔
ٹرمپ نے اس سے قبل 13 مئی 2025 کو ریاض، سعودی عرب میں ایک سرمایہ کاری فورم کے دوران شام سے پابندیاں ہٹانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا، جہاں انہوں نے شام کے عبوری صدر احمد الشرع کے ساتھ ملاقات بھی کی۔ امریکی محکمہ خزانہ نے فوری طور پر جنرل لائیسنس 25 (جی ایل 25) جاری کیا، جو شام کی عبوری حکومت، مرکزی بینک، اور ریاستی اداروں کے ساتھ لین دین کی اجازت دیتا ہے، تاہم روس، ایران، اور شمالی کوریا سے متعلق لین دین پر پابندیاں برقرار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، امریکی محکمہ خارجہ نے سیزر شام سولین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت پابندیوں کے لیے 180 دن کی چھوٹ دی، جو شام کی تعمیر نو کے لیے بجلی، توانائی، پانی، اور صفائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اور انسانی امداد کو آسان بناتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کی اس عارضی چھوٹ سے طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مشکلات ہو سکتی ہیں، کیونکہ پابندیاں دوبارہ عائد ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
یہ فیصلہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے اصرار پر کیا گیا، جنہوں نے شام کی معاشی بحالی کے لیے پابندیوں کے خاتمے کی وکالت کی۔ شام کی نئی حکومت، جو احمد الشرع کی قیادت میں ہے، نے پابندیوں کو معاشی بحران اور تعمیر نو میں رکاوٹ قرار دیا تھا، جس نے ملک کے 90 فیصد عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق، شام کا مجموعی قومی پیداوار 2011 کے 252 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2021 میں 9 ارب ڈالر تک گر گیا۔ پابندیوں کے خاتمے سے نہ صرف شام کے مرکزی بینک اور سرکاری اداروں کے ساتھ لین دین ممکن ہو گا بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور انسانی امداد کے لیے بھی مواقع کھلیں گے۔ تاہم، شام ابھی بھی امریکی محکمہ خارجہ کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جس کی وجہ سے امریکی برآمدی کنٹرولز اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں۔
اس اقدام کے باوجود، بشار الاسد، ان کے ساتھیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں، منشیات کے سمگلروں، اور دہشت گرد تنظیموں جیسے القاعدہ اور داعش سے منسلک افراد پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ ٹرمپ کے حکم نامے میں سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کو احمد الشرع کی خصوصی عالمی دہشت گرد کی حیثیت اور ان کے گروپ حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر درجہ بندی کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ شام کی معیشت کو عالمی تجارت سے جوڑنے کے لیے حال ہی میں سوئفٹ ٹرانزیکشنز شروع ہوئی ہیں، اور شام کے مرکزی بینک کے گورنر نے امریکی سفیر اور بڑے امریکی بینکوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ اگرچہ یہ اقدام شام کے لیے ایک نئی شروعات کی امید دیتا ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیاسی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے بغیر طویل مدتی بحالی چیلنجز کا شکار رہ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…