امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر پوتن پر تنقید کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ فیفا نیشنل ورلڈ کپ فائنل سے واپسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر پوتن سے بہت مایوس ہوں۔ وہ بہت اچھی بات کرتے ہیں۔ وہ بولنے میں ماہر ہیں لیکن رات کے اندھیرے میں لوگوں پر بم برسا دیتے ہیں۔ ہمیں یہ پسند نہیں ہے۔
ٹرمپ نے یہ بیان روس اور یوکرین کی جنگ کے درمیان پوتن کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کے تناظر میں دیا ہے۔ درحقیقت ٹرمپ اپنے دور اقتدار کے آغاز سے ہی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن روس نے گزشتہ چند دنوں میں یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملوں کی رفتار بڑھا دی ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ ناراض ہیں۔
رواں سال 20 جنوری کو امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ان کی ترجیح روس اور یوکرین کی جنگ کو روکنا ہے۔ لیکن مارچ سے روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے ان حملوں کو پوتن کی دوغلی پالیسی سے جوڑ دیا، جہاں وہ دن میں امن کی بات کرتے ہیں لیکن رات کو حملے کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ماضی قریب میں کئی بار پوتن سے فون پر بات کی ہے جس میں انہوں نے یوکرین روس جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے پہلے پوتن کے ساتھ اچھے تعلقات کا دعویٰ کیا تھا لیکن پوتن کے بار بار حملوں اور امن مذاکرات میں عدم تعاون کے رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ آپ کو بتادیں کہ ٹرمپ پر روس پر نئی پابندیاں لگانے کے لیے امریکہ اور یورپی اتحادیوں کا دباؤ ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی ٹرمپ سے روس پر دباؤ بڑھانے کو کہا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…