اے آئی سے تیار کردہ تصویر
واشنگٹن/تہران، 27 مارچ: آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر 10 تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ راستہ اب بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بند ہے اور ایران کسی دباؤ میں آنے والا نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران نے ان کے ساتھ اعتماد قائم کرنے کے لیے 10 آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدا میں ایران صرف آٹھ جہازوں کو اجازت دینے پر آمادہ تھا، لیکن بعد میں یہ تعداد بڑھا کر دس کر دی گئی۔ ٹرمپ نے اسے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب مذاکرات کے لیے سنجیدہ نظر آ رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے توانائی کے مراکز پر ممکنہ امریکی حملے کو مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی تھی، جسے قبول کرتے ہوئے امریکہ نے حملے کی ڈیڈ لائن دس دن کے لیے بڑھا دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل مقرر کی گئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران پس پردہ مذاکرات کے ذریعے تعاون کر رہا ہے اور کچھ غیر جانبدار ممالک کے جھنڈے والے جہازوں کو بھی گزرنے دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ جھوٹے دعوؤں کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام فیصلے اپنی شرائط پر ہی کرے گا۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی نرمی کو دباؤ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایران کی جانب سے بعض جہازوں کو روکنے کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے۔ ایک طرف ٹرمپ ایران کو دباؤ میں قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف ایران واضح کر رہا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان بیک چینل مذاکرات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر دونوں ایک دوسرے کے دعوؤں کو مسترد کر رہے ہیں۔ فی الحال صورتحال کشیدہ ہے اور آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے کے امکانات واضح نہیں ہیں۔ کچھ غیر جانبدار ممالک کے جہاز گزر رہے ہیں، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے راستہ محدود ہی بتایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی یا صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…