اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہنگری سے امریکہ آنے والے طیارے نے متعدد ایسے ممالک کی فضائی حدود سے بچنے کے لیے معمول کی نسبت 400 کلومیٹر زیادہ فاصلہ طے کیا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کر سکتے تھے۔ اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے اس بات کی اطلاع دی۔
آئی سی سی نے غزہ میں جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گذشتہ نومبر میں نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا خیال تھا کہ آئرلینڈ، آئس لینڈ اور ہالینڈ وارنٹ نافذ کرنے کے لیے کارروائی کر سکتے تھے۔ نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے جس میں اسرائیل پر واشنگٹن کے غیر متوقع محصولات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ نیتن یاہو نے ہنگری سے پرواز کی جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان سے ملاقات کی۔ انسانی حقوق کے کئی گروپوں نے ہنگری سے مطالبہ کیا کہ وہ قانونِ روم کے تحت آئی سی سی کے لیے اپنی ذمہ داریاں برقرار رکھے جو کسی ایسے فرد کو مدعو کرنے اور استقبال کرنے سے منع کرتا ہے جس کے آئی سی سی نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوں۔ تاہم اوربان کی حکومت نے قانونِ روم سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا اور نیتن یاہو کے دورے سے قبل یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ ان کی حکومت آئی سی سی کے وارنٹ پر عملدرآمد نہیں کرے گی حالانکہ آئی سی سی سے دستبرداری کا فیصلہ ایک سال کے بعد ہی موثر ہو سکے گا۔
نیتن یاہو کو ایک نئی تنقید کا سامنا
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، خواہ وہ شاباک کے برطرف سربراہ رونن بار کی طرف سے ہو یا پھر غزہ میں یرغمال قیدیوں کے اہل خانہ کی جانب سے. البتہ اس بار نیتن یاہو کو ایک نئی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جو ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل یسرائیل زیف کی جانب سے ہے۔ اسرائیلی ٹی وی “چینل 12” کی ویب سائٹ پر گذشتہ روز پوسٹ ہونے والے ایک مضمون میں مذکورہ جنرل نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ اپنی ابتدا میں تو ضروری تھی تاہم پھر اسے ایک بے فائدہ سیاسی جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ ایک منصفانہ جنگ تھی جو دھوکے کی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ اسرائیلی جنرل نے شام پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے بھی نکتہ چینی کی۔ اس نے خبردار کیا کہ یہ حملے لبنانی تنظیم حزب اللہ کی طرف پر مسلح گروپوں کو جنم دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جنرل زیف کے مطابق صرف فوجی آپریشن کے ذریعے غزہ میں یرغمال اسرائیلی قیدیوں اور فوجیوں کو ان کے گھروں تک واپس لانا ،،، اس کے بہت کم امکانات ہیں۔ قیدیوں کی واپسی کے لیے جنگ کا روکا جانا لازم ہے، بصورت دیگر ان کی رہائی کے لیے معاہدے کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ اسرائلی جنرل کے مطابق جنگ کا جاری رہنا نیتن یاہو کے حق میں فائدہ مند ہے کیوں کہ یہ چیز عدالت عظمی میں نیتن یاہو سے پوچھ گچھ کو ملتوی رکھنے میں مدد گار ہو گی۔ اس دوران میں انھیں ذمے داران کو برطرف کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
اسرائیل کی داخلی سیکورٹی کے ادارے (شاباک) کے سابق سربراہ نے عدالت عظمی میں اپنا موقف پیش کر دیا ہے۔ رونن بار نے موقف میں کہا ہے کہ نیتن یاہو نے انھیں اس لیے برطرف کیا ہے کہ انھوں نے نیتن یاہو پر بد عنوانی کے الزام کی سماعت کرنے والے عدالتی کمیشن کو ایک رپورٹ لکھنے سے انکار کر دیا تھا جس میں یہ کہنا تھا کہ سیکورٹی کی صورت حال وزیر اعظم کے خلاف عدالتی کارروائی کی اجازت نہیں دیتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…