ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B ویزا فیس میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے سالانہ 1 لاکھ امریکی ڈالر چارج کرنے کا اعلان کیا ہے، جو امریکی کمپنیوں کے لیے ہنر مند غیر ملکی ملازمین کی بھرتی کے طریقۂ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا۔ اس اقدام سے خاص طور پر بھارتی IT پروفیشنلز پر اثر پڑنے کا امکان ہے، جو H-1B ویزا پروگرام کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ امریکہ کے وزیر تجارت ہاورڈ لُٹنِک نے جمعہ کو پریس کال میں کہا کہ یہ فیس بڑھانے کی حکمت عملی کم ہنر مند یعنی ’’ٹرینی‘‘ پوزیشنز کو ختم کرنے کے لیے ہے تاکہ صرف اعلیٰ ہنر مند افراد کو مواقع دیے جائیں۔ نئی فیس موجودہ چند ہزار ڈالرز کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور کمپنیوں کو دیگر ویزا چارجز کے علاوہ یہ فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔
انھوں نے کہ اکہ ’’اگر کوئی کمپنی H-1B ویزا خریدنا چاہتی ہے تو اسے ہر سال 1 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔‘‘ واضح رہے کہ اس ویزا کا دورانیہ تین سال ہے جسے ایک بار مزید تین سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ فیس تمام H-1B پوزیشنز پر لاگو ہوگی، چاہے تنخواہ یا مہارت کی سطح کچھ بھی ہو، جس سے یہ پروگرام صرف ان ملازمتوں کے لیے اقتصادی طور پر قابل عمل ہوگا جہاں یہ لاگت جائز ہو۔ امریکی وزیر تجارت نے واضح کیا کہ اب کم تجربہ کار افراد کو تربیت دینے والے پروگرامز سستے نہیں رہیں گے۔ ’’اگر تربیت دینی ہے تو امریکیوں کو دی جائے گی۔‘‘ یہ تبدیلی خاص طور پر بھارتی IT کمپنیوں جیسے انفو سس، ٹی سی ایس اور وپرو کے لیے چیلنج بن سکتی ہے جو مڈ لیول انجینئرز کو امریکہ بھیجتی ہیں۔
یہ فیس 65,000 عام اور 20,000 اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے ویزا کی کوٹے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی، لیکن اس مہنگی فیس کی وجہ سے درخواستوں میں کمی متوقع ہے۔ نئی فیس کے نفاذ کے ساتھ ہی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ویزا کی جانچ پڑتال میں بھی اضافہ ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی کارکنوں کی حفاظت اور خزانے کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ کمپنیوں کو کم اجرتی غیر ملکی کارکنوں کے بجائے امریکیوں کو تربیت دینے کی ترغیب دی جائے۔ اس سے اعلیٰ ہنر مند اور مہنگے کارکنوں کو ترجیح ملے گی، جب کہ کم تجربہ کار افراد کے لیے راستہ بند ہوگا۔ بھارتی پیشہ ور اور کمپنیوں کے لیے یہ تبدیلیاں امریکی مارکیٹ میں اپنی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت کی نشان دہی کرتی ہیں، جس سے زیادہ قیمتی خدمات کی طرف رجحان تیز ہوگا اور عارضی کارکنوں کی منتقلی کم ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…