ایران نے دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے۔ اس منصوبے کو سمندر میں ’ٹول پلازا‘ قائم کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ایران ادائیگی کے لیے ڈالر کو لازمی قرار دینے کے بجائے اپنی کرنسی یا کسی دوسری مقررہ کرنسی کو قبول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جسے عالمی سطح پر ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کن خدمات کے لیے فیس وصول کی جائے گی؟
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ان خدمات کے عوض فیس لی جائے گی جو ایران کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ ان میں جہازوں کی نیویگیشن، ماحولیاتی تحفظ، انشورنس اور سکیورٹی جیسی خدمات شامل ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ایندھن اور دیگر سہولیات کے لیے بھی اضافی فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ رقم ان جہازوں سے وصول کی جائے گی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے مجاز ہیں۔ اس طرح ایران اس راستے سے گزرنے والی عالمی بحری تجارت سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ نے کیا کہا؟
ایرانی رکن پارلیمنٹ حسن غشغوی کے مطابق فیس ان ممالک کے بحری جہازوں سے وصول کی جائے گی جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل ہے۔ ادائیگی ایرانی ریال یا ایران کی جانب سے مقرر کردہ کسی دوسری کرنسی میں کی جا سکے گی۔ اس شق کو خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عالمی تجارت میں ڈالر کے استعمال کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
کیا بین الاقوامی قانون ایران کو ٹول وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
اس منصوبے کے حوالے سے سب سے بڑا سوال بین الاقوامی سمندری قانون کا ہے۔ اقوام متحدہ کے سمندری قانون UNCLOS کے تحت ایران عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کو روک نہیں سکتا اور محض گزرنے کے لیے ٹول عائد کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ تاہم بعض مخصوص خدمات فراہم کرنے کے بدلے فیس وصول کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ایران اسی قانونی گنجائش کو بنیاد بنا کر فیس وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایرانی ریال کی قدر بھی ریکارڈ کم سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی تجارت سے فیس وصول کرنا ایران کے لیے اضافی آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
علاقائی ممالک کے لیے نئی مشکل
ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑوسی اور دیگر علاقائی ممالک کے لیے ایران کو اضافی فیس ادا کرنا آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔ خاص طور پر وہ ممالک جو امریکی پابندیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں، ایران کو ادائیگی سے گریز کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور عالمی تجارت پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایران اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…
پولیس نے اس معاملے میں 2 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دونوں سے پوچھ…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے دن ہندوستان نے دو تمغے اپنے نام کیے تھے۔ 10…
دوسری جانب سری لنکا نے سیمی فائنل میں پاکستان کو 8 وکٹ سے شکست دے…
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…