بین الاقوامی

Threat Looms Over Several Pakistani Heritage Sites: یونیسکو فہرست میں شامل پاکستان کی کئی تاریخی ورثہ گاہوں پر منڈلائے خطرے کے بادل، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

نئی دہلی: پاکستان کی کئی تاریخی عمارتیں اور مقامات، جن میں تکشلا بھی شامل ہے، یونیسکو کی ’ورلڈ ہیریٹیج اِن ڈینجر لسٹ‘ میں شامل ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ خدشہ ان مقامات کے تحفظ اور دیکھ بھال میں مبینہ غفلت اور متعلقہ اداروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

موہرا مورادو اور سرکاپ پر تنازعہ

معروف میڈیا ادارے ڈان کے مطابق یہ معاملہ خاص طور پر ’موہرا مورادو‘ اور ’سرکاپ‘ سے متعلق ہے، جہاں مرمت اور بحالی کے دوران اصل ڈھانچے میں تبدیلی، دیواروں کو اونچا کرنے اور سیمنٹ کے استعمال جیسے اقدامات پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ شکایت پیرس میں پاکستان کے مستقل نمائندے تک پہنچائی گئی، جس کے بعد سرکاری سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

پاک آثار قدیمہ محکمہ کی وارننگ

پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر (ڈی او اے ایم) نے ان کاموں کو سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ محکمہ کے مطابق عالمی ورثہ کے مقامات پر سیمنٹ کا استعمال تاریخی صداقت اور اصل حیثیت کو نقصان پہنچاتا ہے، جو یونیسکو کے تحفظاتی اصولوں کے خلاف ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو ان مقامات کو ’ڈینجر لسٹ‘ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

تکشلا کمپلیکس کی تاریخی اہمیت

1980 میں ’تکشلا آثار قدیمہ کمپلیکس‘ کو عالمی ورثہ کا درجہ دیا گیا تھا۔ یہ 18 مقامات پر مشتمل ایک بڑا مجموعہ ہے جو نوپاشانی دور سے لے کر پانچویں صدی تک شہری ترقی اور بدھ مت تہذیب کے ارتقا کو ظاہر کرتا ہے۔

پنجاب محکمہ آثار قدیمہ کا ردعمل

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ آثار قدیمہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام ’ضروری تحفظ‘ کے تحت کیا گیا ہے تاکہ تاریخی ڈھانچے مزید خراب نہ ہوں۔

ان کے مطابق تمام کام بین الاقوامی معیارات، تاریخی ریکارڈ (جیسے جان مارشل کی دستاویزات) اور ماہرین کے مشورے کی بنیاد پر کیے گئے ہیں اور اصل ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

تاریخی خصوصیات کی بحالی کا دعویٰ

محکمہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض پرانے ’غلط‘ کنکریٹ کام کو ہٹایا گیا ہے اور چھپی ہوئی تاریخی خصوصیات، جیسے قدیم آبی حوض، کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی سیاحوں کی سہولت کے لیے ریسٹورنٹ، عبادت گاہ اور گیسٹ ہاؤس جیسی سہولیات بفر زون کے باہر تیار کی جا رہی ہیں۔

عالمی ساکھ پر پڑ سکتا ہے اثر

یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کئی دیگر تاریخی مقامات کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں تحفظ کے طریقوں پر اٹھنے والے سوالات پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

5 minutes ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

11 minutes ago

’نہرو کی خواہشوں نے شمال مشرق کو پیچھے چھوڑ دیا…‘ راہل گاندھی پر بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے اٹھائے بڑے سوال

نشی کانت دوبے نے اپنے بیان میں جواہرلال نہرو کی پالیسیوں پربھی سنگین سوال اٹھائے۔…

2 hours ago

Notice Movie Review: ایک سو پچاس سال پرانی دکان پر سرکاری نوٹس، نظام سے ٹکرائے ارون گوول

’نوٹس‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سماجی موضوع اور ارون گوول و دیپیکا…

2 hours ago

Shehzad Poonawalla: ’رائز اینڈ فال 2‘ کے فاتح بنے شہزاد پونا والا، جیتی 35 لاکھ روپے کی انعامی رقم

’رائز اینڈ فال 2‘ میں کامیڈین ہرش گجرال نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے خوب رنگ…

2 hours ago