بین الاقوامی

America No Kings Protest: ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف واشنگٹن سے لے کر لندن تک ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے، اس تحریک کو “No Kings” کا  دیا نام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑی عالمی تحریک شروع ہو گئی ہے۔ اس مہم کو “No Kings” کا نام دیا گیا ہے، یعنی “ہم کسی راجہ کو نہیں پہچانتے”۔ یہ تحریک امریکہ سے یورپ اور ایشیا تک پھیل چکی ہے۔ ہفتہ 18 اکتوبر 2025 کو لندن میں امریکی سفارت خانے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے بڑھتے ہوئے آمرانہ رویے اور جمہوری اداروں کو لاحق خطرات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
لندن میں مظاہروں کا آغاز عالمی سطح پر ہوا

لندن کی اس ریلی کو ’نو کنگز‘ مہم کا پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں 2,600 سے زیادہ احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔ میڈرڈ اور بارسلونا جیسے ہسپانوی شہروں میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ادھر امریکا میں نیویارک، واشنگٹن اور شکاگو میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔
لوگوں نے کہا، جمہوریت کوئی نجی بادشاہت نہیں ہے

مہم سے منسلک تنظیم Indivisible کی شریک بانی لیہ گرین برگ نے کہا کہ یہ مظاہرہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خیال کہ ہمارے پاس راجہ نہیں ہے ، یہ خیال  ہی امریکی آئین آتما ہے۔ یہ تحریک ایک پیغام دیتی ہے کہ شہریوں کو ایک بار پھر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
امریکہ میں بدامنی اور سیکورٹی میں اضافہ

امریکہ کے کئی حصوں میں مظاہرین نے پرامن مارچ کیا۔ ورجینیا میں سینکڑوں افراد نے واشنگٹن ڈی سی کی طرف مارچ کیا اور آرلنگٹن قبرستان کے قریب جمع ہوئے۔ منتظمین نے بتایا کہ اس مہم کو 300 سے زائد سماجی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے پرامن احتجاج کو یقینی بنانے کے لیے ہزاروں رضاکاروں کو تربیت بھی دی ہے۔
رہنماؤں اور مشہور شخصیات کی حمایت

امریکی ترقی پسند رہنما برنی سینڈرز، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور ہلیری کلنٹن نے بھی اس مہم کی حمایت کی۔ کئی مشہور شخصیات نے #NoKings ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر اتحاد کے پیغامات شیئر کیے۔ اسی طرح کے مظاہرے چند ماہ قبل ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر کیے گئے تھے، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں راجہ نہیں ہوں

ٹرمپ نے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں راجہ کہنا غلط ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ احتجاج سیاسی طور پر محرک اور ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانے والے تھے۔ ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے بھی مظاہروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں امریکہ مخالف مہم قرار دیا۔
عوام کی آواز کو ایک پلیٹ فارم دوبارہ مل گیا

امریکی ماہر سماجیات ڈانا فشر کا خیال ہے کہ “نو کنگز” مہم حالیہ برسوں میں سب سے بڑی عوامی تحریک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج نہیں ہے ،بلکہ ان لوگوں کی آواز ہے، جو مظلوم محسوس کرتے ہیں۔ فشر کے مطابق یہ تحریک تیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام مزید خاموش نہیں رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Asian Games: شیفالی ورما کی پہلی ٹی20 سنچری، بھارت نے بنگلہ دیش کو 196 رنز کا دیا ہدف

بھارتی ٹیم نے 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 195 رنز بنائے اور…

24 minutes ago

Soundarya Rajinikanth: سپر اسٹار رجنی کانت کی بیٹی سوندریا نے اداکاری کے بجائے گرافک ڈیزائنر کے طور پر شروع کیا کیریئر

سوندریا نے 2010 میں فلم ’گوا‘ کے ذریعے بطور پروڈیوسر اپنے فلمی کیریئر کا آغاز…

47 minutes ago

Road Accident: ممبئی میں خوفناک سڑک حادثہ، پل سے گری تیز رفتار کار، 3 افراد ہلاک، ایک کی حالت تشویشناک

بی ایم سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائر اسپتال کے چیف میڈیکل…

1 hour ago

Nawada School Viral Video: نوادہ میں طالبات نے ہیڈ ماسٹر پر لگائے سنگین الزامات، چھیڑ چھاڑ اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ جمعہ کو وہ امتحان کے لیے…

2 hours ago

Trump Returns Unexpectedly to White House: اچانک وائٹ ہاؤس واپس لوٹے ٹرمپ، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کا الرٹ، ایڈوائزری جاری

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…

2 hours ago