واشنگٹن: ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اختیار کر لی ہے، جس کے تحت ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں شامل ممالک اور مالیاتی اداروں کو سخت پابندیوں کی وارننگ دی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور اس کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنا ہے۔ امریکی وزیرخزانہ اسکوٹ بیسینٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنے مالیاتی اقدامات کو مزید تیز کر رہا ہے، جسے انہوں نے ’’آپریشن اکنامک فیوری‘‘ کا نام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ نے ایرانی حکومت کی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے، ادائیگیوں کو روکنے اور پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) سے منسلک اکاؤنٹس کی کڑی نگرانی کے لیے بھرپور دباؤ ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکہ اپنے اتحادی ممالک پر بھی زور دے رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کریں، جن میں ایرانی قیادت اور اداروں سے وابستہ فنڈز کو منجمد کرنا بھی شامل ہے۔
تیل خریدنے والے ممالک کو سخت وارننگ
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ جو ممالک یا بینک ایرانی تیل کی تجارت میں شامل ہوں گے، ان پر ’’سیکنڈری پابندیاں‘‘ عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے فریقین بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔ اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر کسی ملک کے بینکوں میں ایرانی سرمایہ موجود ہوا یا وہ ایرانی تیل خریدتے رہے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ امریکی وزارت خزانہ نے اس ضمن میں پہلے ہی بعض مالیاتی اداروں کو انتباہ جاری کر دیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق چند چینی بینکوں کو بھی باضابطہ خطوط بھیجے گئے ہیں کہ اگر ان کے نظام میں ایرانی فنڈز پائے گئے تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
علاقائی حالات اور عالمی حکمت عملی
امریکی حکام نے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی سے بھی جوڑا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بعض کارروائیوں کے باعث خلیجی ممالک کا رویہ بھی تبدیل ہوا ہے اور اب وہ مالی لین دین کی نگرانی میں زیادہ شفافیت دکھا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ یہ اقدامات امریکہ کے طویل مدتی سکیورٹی اہداف کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ وقتی طور پر سخت اقدامات ضرور ہیں، لیکن ان کا مقصد خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف یہ معاشی دباؤ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ جاری رہے گا، تاکہ مذاکرات کے دوران بھی تہران کی مالی صلاحیت کو محدود رکھا جا سکے۔ امریکہ کی اس نئی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اقتصادی محاذ پر مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…