بین الاقوامی

Gaza Peace Plan: غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز، امریکہ نے حماس کو کیا خبردار، کہا- شرائط پر عمل نہیں ہوا تو بھگتنے ہوں گے سنگین نتائج

واشنگٹن: امریکہ نے بدھ کے روز غزہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس مرحلے میں جنگ بندی سے آگے بڑھتے ہوئے اب توجہ غیر مسلح کرنے، تکنیکی (ٹیکنوکریٹک) حکومتی نظام اور تعمیرِ نو پر مرکوز کی گئی ہے۔ یہ معلومات امریکہ کے خصوصی امن ایلچی نے ایک بیان میں دی ہیں۔

امریکی امن مشن کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، ’’آج صدر ٹرمپ کی جانب سے ہم غزہ تنازع کو ختم کرنے کے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس مرحلے میں اب جنگ بندی سے آگے بڑھ کر غیر مسلحی، تکنیکی حکمرانی اور تعمیرِ نو پر کام کیا جائے گا۔”

دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری تکنیکی فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی، جسے باضابطہ طور پر ‘نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ’ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق غزہ کے مکمل غیر مسلحی عمل اور تعمیرِ نو پر کام کیا جائے گا، جس میں منظور شدہ ڈھانچے سے باہر سرگرم مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے پر خصوصی زور دیا جائے گا۔ وٹکوف نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں غیر مسلحی کا بنیادی مقصد “تمام غیر مجاز مسلح عناصر کو ہتھیاروں سے پاک کرنا” ہوگا۔ اسے جنگ بندی کے بعد غزہ میں امریکہ کے کردار کے دائرہ کار میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کو حماس سے مکمل تعاون کی ہے توقع

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے میں وہ حماس سے مکمل تعاون کی توقع رکھتا ہے، بالخصوص تنازع کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد سے متعلق باقی ذمہ داریوں کے حوالے سے۔ وٹکوف نے کہا، “امریکہ کو امید ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریوں کو پوری طرح پورا کرے گا، جس میں آخری مردہ یرغمالی کی باقیات کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان شرائط پر عمل نہیں کیا گیا تو “سنگین نتائج” بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ حالانکہ، ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل

امریکی حکام نے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ وٹکوف کے مطابق، پہلے مرحلے میں زمینی سطح پر اہم انسانی اور سکیورٹی سے متعلق نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا، ’’خاص طور پر پہلے مرحلے میں تاریخی انسانی امداد پہنچائی گئی، جنگ بندی برقرار رکھی گئی، تمام زندہ یرغمالیوں کو واپس لایا گیا اور 28 میں سے 27 مردہ یرغمالیوں کی باقیات واپس کی گئیں۔”

پیش رفت میں علاقائی ممالک کے کردار کی تعریف

امریکی ایلچی نے اب تک کی پیش رفت میں علاقائی ممالک کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا، “ہم مصر، ترکی اور قطر کے بے حد شکر گزار ہیں، جن کی ناگزیر ثالثی کوششوں کی بدولت اب تک کی تمام پیش رفت ممکن ہو سکی ہے۔”

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Adani Ahmedabad Marathon: اڈانی احمد آباد میراتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفیشل جرسی جاری

اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…

31 minutes ago

Saint Trilochan Darshan Das: روحانیت اور یوگا کا تاریخی سنگم، ہریدوار میں سنت تریلوچن درشن داس اور سوامی رام دیو کی جذباتی ملاقات

پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…

52 minutes ago

SP Workers Protest in Delhi: اعظم خان کی حمایت میں دہلی میں ایس پی کارکنوں کا احتجاج، کہا- ’سازش کے تحت درج ہوئے 350 مقدمات

احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی…

2 hours ago

Congress leader Rahul Gandhi: دیا جلانے کے لیے پیسے ہیں، ہاسٹل کے لیے کیوں نہیں؟ طلبہ کے بغیر ملک مضبوط نہیں ہو سکتا- راہل گاندھی

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا، ’’حکومت…

2 hours ago