نئی دہلی : امریکی سینیٹر کرس مرفی نے سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران جنگ کے معاملے میں کئی ماہ سے امریکی عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مرفی نے کہا کہ ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ بس ہونے ہی والا ہے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ان اعلانات کا استعمال مارکیٹ کو متاثر کرنے کے لیے کیا گیا، تاکہ ٹرمپ کے دوستوں اور خاندان کے افراد کو اس سے مالی فائدہ پہنچایا جاسکے۔سینیٹر مرفی نے ٹرمپ کے حالیہ ماہانہ ایک لاکھ امریکی ڈالر کے سبسکرپشن کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹس عام لوگوں سے پہلے دیکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ مرفی نے الزام لگایا کہ یہ امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق معلومات پہلے فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہے اور اس کا استعمال انسائیڈر ٹریڈنگ کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے یہ جنگ صرف لاپروائی کی وجہ سے جاری نہ ہو، بلکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ صدر نے اس سے پیسہ کمانے کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔
ٹرمپ کی حکمت عملی لوگوں کو گمراہ کرنے پر مبنی
کرس مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کی پوری حکمت عملی لوگوں کو گمراہ کرنے اور جھوٹ بولنے پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق اس کا سب سے بڑا حصہ یہ پیغام دینا ہے کہ جنگ اب ختم ہونے والی ہے۔ مرفی نے کہا کہ لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ فکر نہ کریں، چاہے جنگ کا اختتام نظر نہ آرہا ہو، چاہے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہو اور چاہے امریکہ کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہ دے، لیکن جنگ بس ختم ہونے والی ہے۔
مارکیٹ کھلنے سے پہلے جنگ ختم ہونے کا اعلان
سینیٹر مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کے ایسے دعووں میں ایک واضح پیٹرن نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق وائٹ ہاؤس عوام سے جنگ کی اصل صورتحال کے بارے میں براہ راست بات نہیں کررہا۔ مرفی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ عام طور پر اتوار کی رات یا پیر کی صبح، مارکیٹ کھلنے سے عین پہلے، یہ اعلان کرتے ہیں کہ جنگ اب ختم ہونے والی ہے۔مرفی کے مطابق ایران جنگ کو تقریباً چھ ماہ گزرنے کے بعد یہ پیٹرن واضح ہوچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 11 مختلف مواقع پر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ ہونے والا ہے اور جنگ ختم ہونے والی ہے، لیکن کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور یہ دعوے حقیقت ثابت نہیں ہوئے۔
ٹروتھ سوشل پر شروع کیا گیا سبسکرپشن
مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق اعلانات اچانک نہیں ہوتے بلکہ مبینہ طور پر پیسہ کمانے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص انہیں ماہانہ ایک لاکھ ڈالر ادا کرے تو اسے امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلوں کی پہلے سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔ مرفی نے اسے ’’انسائیڈر ٹریڈنگ کے لیے سبسکرپشن سروس‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ بلاشبہ انتہائی منافع بخش سودا ہے۔ انہوں نے اپنے ریپبلکن ساتھیوں کو بھی نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کوئی ریپبلکن سینیٹر جنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر میں ایسی معلومات فروخت کرنے کا دفاع کرے گا؟ مرفی نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی نہیں کرے گا۔
ایران میں جنگ فوری ختم کرنے کی اپیل
کرس مرفی نے ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جنگ فوری اور حقیقی طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جون میں ہونے والی جنگ بندی سے انہیں خوشی ہوئی تھی، لیکن اس کی شرائط دیکھنے کے بعد انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی۔ان کے مطابق وہ کوئی حقیقی معاہدہ نہیں تھا، تاہم اب بہت سے لوگ تقریباً کسی بھی معاہدے کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ مرفی نے کہا کہ ایسا معاہدہ ایران کے لیے فتح کا دعویٰ کرنے کا موقع بن سکتا ہے اور امریکہ کے لیے باعثِ شرمندگی ہوگا، لیکن اس کے باوجود ان کے نزدیک یہ جنگ ایک بڑی تباہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر…
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…