بین الاقوامی

US-Iran Talks: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور روم میں چار گھنٹے تک رہا جاری، ایران نے کہا-تعمیری ماحول میں جاری ہے بات چیت

امریکہ اور ایران کے بیچ ہفتے کے روز تہران کے جوہری پروگرام پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بات چیت ’’تعمیری ماحول‘‘ میں ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق روم میں عمان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت تقریباً چار گھنٹے تک چلی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وفود عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر ’’دو مختلف کمروں میں‘‘ بیٹھے تھے اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی ان کے درمیان پیغام رسانی کا کام انجام دے رہے تھے۔

بات چیت کے اختتام کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ’’مذاکرت کے میں سامنے آنے والے تعمیری ماحول‘‘ کے سبب ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں فریقین مزید بات چیت کریں۔ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے مسقط میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے ایک ہفتے بعد ہوئی ہے۔ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تاریخی جوہری معاہدے کو ترک کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اتنی اعلیٰ سطح پر یہ پہلی بات چیت تھی۔

امریکہ سمیت مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ وہیں ایران اس الزام کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

مذاکرت انتہائی اہم مرحلے پر ہیں: رافیل گروسی

مارچ میں ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا جس میں جوہری مذاکرات کی تجدید پر زور دیا گیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی تھی۔ دریں اثنا ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ’’مجھے فوجی آپشن استعمال کرنے کی جلدی نہیں ہے۔ میرے خیال میں ایران بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘ وہیں جمعے کے روز عراقچی نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ کی طرف سے ’’سنجیدگی‘‘ کا مشاہدہ کیا، لیکن ان کے ’’ارادے اور محرکات‘‘ اب بھی سوالات کی زد میں ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز فرانسیسی اخبار لی موندے کی طرف سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ ایران جوہری بم بنا لینے سے زیادہ ’’دور نہیں‘‘ ہے۔ ایران اس وقت 60 فیصد تک یورینیم کو افزودہ کرتا ہے جو کہ معاہدے میں 3.67 کی حد سے کہیں زیادہ ہے لیکن پھر بھی ہتھیاروں کے درجے کے مواد کے لیے درکار 90 فیصد حد سے نیچے ہے۔ گروسی، جنھوں نے اس ہفتے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی، کہا کہ امریکہ اور ایران مذاکرات ’’انتہائی اہم مرحلے پر ہیں‘‘ اور جلد ایک معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi: نیتن یاہو نے پی ایم مودی سے فون پر کی بات، یوم آزادی پر کیپٹن اسمت مچھار کے ساتھ مشعل روشن کرنے کی دی دعوت

اسرائیلی وزیر اعظم نے کیپٹن اسمت مچھار کو ’بھارت کا بہادر پائلٹ‘ قرار دیا۔ دونوں…

23 minutes ago

Akhilesh Yadav’s Reaction After Meeting Azam Khan: ’’اعظم تھے، اعظم ہیں اور اعظم رہیں گے‘‘، رام پور جیل میں اکھلیش یادو اور اعظم خان کے درمیان کیا بات ہوئی؟

2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے…

45 minutes ago

India ITME 2026: انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026، گریٹر نوئیڈا میں جمع ہوگی دنیا بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، 40 سے زائد ممالک کی شرکت

انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026 اس دسمبر گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے جا رہا…

1 hour ago

Adani Group: اڈانی انرجی سولیوشنز کے دوسری سہ ماہی کے نتائج شاندار، EBITDA میں 67 فیصد کا زبردست اضافہ

اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج…

2 hours ago