بین الاقوامی

The ‘End’ of the US-Iran War: امریکہ-ایران جنگ کا ‘دی اینڈ’! پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر کا بڑا انکشاف،کیا جنگ روکنے کے لیے مجبور ہو گئے ٹرمپ؟

دنیا پر منڈلاتی تیسری عالمی جنگ کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک چونکا دینے والی پیش رفت میں امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) کو باضابطہ خط لکھ کر اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی دشمنی اب ختم ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کا یہ ’یو ٹرن‘ ایسے وقت میں آیا ہے جب ان پر فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینے کا شدید دباؤ تھا۔ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ 7 اپریل کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، اس لیے اب جنگ جیسے حالات نہیں رہے۔

’وار پاور ریزولوشن‘ کا خوف یا قانونی مجبوری؟

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ان کی ’مجبوری‘ بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل، امریکہ میں 1973 کا ’وار پاور ریزولوشن‘ نافذ ہے، جس کے تحت صدر بغیر پارلیمنٹ کی منظوری کے صرف 60 دن تک ہی فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے 2 مارچ کو پارلیمنٹ کو حملے کی اطلاع دی تھی، جس کی مدت 1 مئی کو ختم ہو رہی تھی۔ پارلیمنٹ میں سبکی سے بچنے کے لیے ٹرمپ نے مدت ختم ہونے سے عین پہلے خط لکھ کر کہہ دیا کہ ’’دشمنی اب ختم ہو گئی ہے‘‘، جس کے بعد انہیں ارکانِ پارلیمنٹ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

28 فروری کو شروع ہوئی جنگ کب تھمی؟

ٹرمپ نے اپنے خط میں تاریخوں کی مکمل تفصیل دی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی دشمنی اب باضابطہ طور پر ختم ہو چکی ہے۔ 7 اپریل کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بھی گولی نہیں چلی۔ سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ قدم ان قانونی بحثوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے فوجی اختیارات پر سوال اٹھا رہی تھیں۔ تاہم، ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ سفارت کاری اور فوجی آپشن—دونوں ابھی بھی میز پر موجود ہیں۔

’میں سمجھوتے سے مطمئن نہیں!‘… ٹرمپ کے تیور برقرار

میرین ون (ہیلی کاپٹر) سے روانہ ہونے سے پہلے ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن میں فی الحال ان کی تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں۔ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی حکومت مکمل طور پر ’بکھری ہوئی‘ اور ’غیر منظم‘ ہے۔ ان کے درمیان اندرونی اختلافات اس قدر زیادہ ہیں کہ وہ کسی ایک مشترکہ رائے تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ کا وہ ’بڑا آپریشن‘

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ دو ماہ تک جاری رہنے والی اس کشمکش کے بعد اب ٹرمپ نے قدم پیچھے کھینچ لیے ہیں۔ اگرچہ وہ اسے ’امن‘ کا نام دے رہے ہیں، لیکن سفارتی ماہرین اسے اندرونی سیاست اور قانونی پیچیدگیوں کے درمیان ٹرمپ کی ایک ’حکمتِ عملی کے تحت پسپائی‘ قرار دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ایران اس پر کیا ردعمل دیتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

اعظم خان کل جیل سے آسکتے ہیں باہر، بیٹے عبداللہ اعظم بھی ہوں گے رہا، جانئے پوری تفصیل

ذرائع کے مطابق، سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم ہفتہ (31…

33 minutes ago

Farewell to Dr. Shams Equbal from the staff of NCPUL: قومی اردو کونسل کے اسٹاف کی جانب سے ڈاکٹر شمس اقبال کو الوداعیہ

ڈاکٹر شمس اقبال نے کونسل کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ…

2 hours ago