بین الاقوامی

Swedish Government to make a Law against Desecration of the Holy Quran: سوئیڈن میں عالمی دباؤ کے بعد قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کیلئے حکومت کا بڑا پلان

یوروپین ممالک میں قرآن مقدس کی بے حرمتی کرنا ایک فیشن بنتا جارہا ہے۔ چاہے سوئیڈن ہو یا ڈنمارک، لیکن مسلم ممالک سمیت عالمی برادری کے سخت ردعمل کے بعد اب کئی ممالک نے اپنے اظہاررائے کی آزادی کے بہانے مذہبی کتابوں کی توہین سے متعلق سختی دکھانا شروع کردیا ہے اور ملک کی قوانین میں تبدیلی پر بھی غورکیا جارہا ہے۔ خبروں کے مطابق، سوئیڈن کی حکومت پبلک آرڈرایکٹ میں ترمیم کے بارے میں غوروخوض کر رہی ہے، جس کے ذریعہ پولیس کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہ دے۔ گزشتہ جمعرات کو سوئیڈن نے ملک میں دہشت گردی کا دوسرا بڑا الرٹ جاری کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے قرآن پاک کی توہین کے واقعات کے بعد چند حملوں کوناکام بنایا ہے، قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے کچھ لوگ مشتعل ہوکرحملہ کرنا چاہتے تھے۔ سوئیڈن میں عوامی شخصیات یا مذاب کی توہین کو اظہار رائے کی آزادی کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہے، لیکن اب حکومت انہیں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ وزیر انصاف گنراسٹرومر نے کہا کہ وہ ایک کمیشن تشکیل دیں گے، جو پولیس کوقرآن کی بے حرمتی روکنے جیسے معاملات کیلئے وسیع اختیارات دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو یہ اختیارحاصل ہوگا کہ ایسے احتجاج کی اجازت نہ دے یا پھراس کا مقام تبدیل کردے۔

سوئیڈن میں قرآن مقدس کی توہین اور نذرآتش کئے جانے کے معاملہ پر تمام اسلامی ممالک نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اورسوئیڈن سے کہا ہے کہ وہ ایسے واقعات کو روکے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، مصر وغیرہ ممالک نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہارکیا ہے۔ سوئیڈن کی اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر عیدالاضحیٰ کے موقع پرقرآن مجید کو نذرآتش کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اسلامی ملک مراکش نے واقعے پرشدید احتجاج کرتے ہوئے سوئیڈن سے اپنے سفیرکوغیرمعینہ مدت کے لئے واپس بلا لیا ہے۔

قابل ذکرہے کہ سوئیڈن میں قرآن شریف نذرآتش کئے جانے کا ایک فیشن بنتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عالمی برادری میں خاص طور پرمسلم ممالک میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اسی ضمن میں عراق نے سوئیڈن کے سفیرکو اس وقت ملک بدرکردیا، جب سوئیڈن میں قرآن کریم کے نسخے جلائے جانے پرمشتعل عراقی مظاہرین نے وسطی بغداد میں واقع سویڈش سفارت خانے پردھاوا بول دیا اورکمپاؤنڈ کی دیواروں کو آگ لگا دی تھی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، عراقی وزیراعظم محمد شیعہ السوڈانی نے سوئیڈن میں اپنے ملک کے چارج ڈی افیئرزکو بھی واپس بلا لیا اورعراقی سرزمین پرسوئیڈش ٹیلی کام کمپنی ایرکسن کا ورکنگ پرمٹ  بھی معطل کردیا اور سوئیڈن کے سفیرکوبھی ملک سے باہرکردیا۔

 بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Amit Shah Punjab Visit: منشیات کے بحران اور انتخابی تیاریوں کے درمیان امت شاہ 20 اکتوبر کو پنجاب کا کریں گے دورہ

منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…

22 minutes ago

Gwalior Tragedy: گوالیار حادثہ: شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر 14 افراد ہلاک، امت شاہ نے تعزیت کا کیا اظہار

مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر…

59 minutes ago

Neha Bora Controversy: نیہا بورا، عمر خالد اور بنگلہ دیش کا کیا تعلق ہے؟ احتجاج کے درمیان کیسے گھریں آئیسا کی صدر

جے این یو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کے عمر…

1 hour ago

Adani Group News: وشاکھاپٹنم میں اڈانی کا ’میگا پلان‘، ماحولیاتی کارکنوں کے احتجاج کے بعد پوری حکمت عملی تبدیل

اڈانی گروپ اور گوگل کے مجوزہ اے آئی ڈیٹا سینٹر میں پانی کے استعمال پر…

2 hours ago