تحریر:گریراج اگروال
امریکہ مضبوط مالیاتی منڈیوں، برآمدات کے مؤثر فروغ اور جدید ترین اختراع کے ذریعے عالمی معاشی پالیسی کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو قومی خوشحالی کا باعث بنتی ہیں۔حالیہ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی) بعنوان ’’امریکہ فرسٹ: تجارت، ترقی اور مالیات‘‘ نے بین الاقوامی پالیسی ماہرین کو ان چیزوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کیا کہ امریکی معاشی حکمتعملی کس طرح ترتیب دی جاتی ہے اور اسے کس طرح عملی جامہ پہنایا جاتا ہے ۔ شرکا ء کو یہ موقع بھی ملا کہ وہ دیکھیں کہ امریکی نظام کاروبار اور افرادی قوت دونوں کے لیے مواقع کیسے پیدا کرتے ہیں۔
شرکاء میں نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی عوامی پالیسی کی ماہرہادیتی شرما بھی شامل تھیں، جن کا کریئر سرکاری خدمات ، سفارتی مشنوں اور ترقیاتی شعبے پر محیط ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’اس پروگرام نے دکھایا کہ امریکہ کس طرح تجارت، مالیات اور ترقیاتی پالیسیوں کو ہم آہنگ کر کے اپنی گھریلو معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ عالمی سطح پر مسابقت کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔ ‘‘
معاشی پالیسی پر عمل در آمد
شرکاء نے جائزہ لیا کہ امریکی وفاقی نظام کس طرح معاشی حکمتعملی کو تشکیل دیتا ہے، پالیسی سازی کے عمل سے لے کر تجارت اور برآمدات کے فروغ کے اُن اقدامات تک جو علاقائی ترقی کی حمایت کرتے ہیں۔ پروگرام کے دوران بین الاقوامی معاشی مسائل پر گفتگو کے مواقع بھی فراہم کیے گئے اور یہ سمجھا گیا کہ امریکی پالیسیاں عالمی منڈیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
شرما کے لیے یہ پروگرام اس حوالے سے بصیرت افروز رہا کہ معاشی پالیسیاں کس طرح حکمت عملی سے عملی صورت اختیار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ذاتی طور پر میں یہ سمجھنا چاہتی تھی کہ ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کس طرح محض ایک مقصد سے نکل کر حقیقی اداروں، مراعات اور زمینی نتائج میں ڈھلتی ہے۔‘‘انہیں خاص طور پر اس بات میں دلچسپی تھی کہ عالمی معاشی تبدیلیاں امریکی کاروبار کو کیسے متاثر کرتی ہیں اور وہ ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات پر امریکی نقطہ نظر کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتی تھیں۔
اس پروگرام کا ایک اہم نکتہ امریکی معاشی نظام کی غیر مرکزی اور حقیقت پسندانہ نوعیت کو سمجھنا تھا۔ شرما کہتی ہیں ’’معاشی حکمت عملی کا تعین محض واشنگٹن سے نہیں ہوتا، بلکہ ریاستیں، شہر، جامعات اور تجارتی تنظیمیں نتائج کو تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔‘‘ یہ نظام معاشی پالیسی کو مقامی حقائق سے ہم آہنگ رکھنے کے ساتھ قومی ترجیحات کے ساتھ اس کا تسلسل بھی برقرار رکھتا ہے۔
یہ غیر مرکزیت ریاستی سطح کے اداروں کے دوروں کے دوران واضح طور پر نظر آئی۔ نیو میکسیکو چیمبر آف کامرس اور ریاست کے محکمۂ معاشی ترقی نے دکھایا کہ کس طرح ترجمانی، افرادی قوت کی ترقی اور تجارتی پالیسی ایک مربوط اور فعال انداز میں مل کر کام کرتی ہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ اسی طرح ’اسمال بزنس ڈیولپمنٹ سینٹر‘ کے نیٹ ورک نے یہ واضح کیا کہ ’’مستقل مقامی تعاون کس طرح چھوٹے اداروں کو برآمدات اور عالمی منڈیوں میں شمولیت کے لیے بھرپور طریقے سے تیار کر سکتا ہے۔‘‘
پروگرام میں امریکی معاشی حکمتعملی کی تشکیل میں پالیسی ریسرچ اور ترجمانی کے کردار کو بھی نمایاں کیا گیا۔ اٹلانٹک کونسل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن فاؤنڈیشن جیسے تھنک ٹینکس نے یہ واضح کیا کہ تجارت، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاست کس طرح ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ شرما شہری اور ریاستی معاشی ترقی کے دفاتر کے مسائل کے حل پر مبنی عملی نقطہ نظر سے خاصی متاثر ہوئیں، جو کاروبار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔
امریکی مسابقت کی جھلکیاں
ان تجربات نے امریکی مسابقت کے بارے میں ان کی تفہیم کو گہرائی و گیرائی بھی عطا کی۔ وہ کہتی ہیں ’’پروگرام میں زور اس بات پر بھی تھا کہ امریکی تجارتی پالیسی کا گہرا تعلق گھریلو ترجیحات سے ہے، جیسے روزگار، جدت، سپلائی چین کی سلامتی اور علاقائی ترقی۔‘‘ امریکہ مسابقت کو ایک مجرد تصور کے بجائے مہارتوں، پیداواریت اور مضبوط اداروں کے ذریعے، حکومت کے ہر درجے پر، عملی طور پر تعمیر کرتا ہے۔
شرما کہتی ہیں کہ امریکی نظام کی ایک اور نمایاں خصوصیت ترجمانی گروہوں اور صنعتی انجمنوں کا کردار ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’میں نے دیکھا کہ ترجمانی گروپس، چیمبرس آف کامرس اور صنعتی انجمنیں پالیسی سازوں کے ساتھ کس قدر سرگرمی سے مشاورت کرتی ہیں۔‘‘ یہ ادارے وسیع پالیسی اہداف کو عملی اور کاروبار دوست تجاویز میں ڈھالتے ہیں، خاص طور پر چھوٹے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے لیے، تاکہ تجارتی پالیسی زمینی معاشی ضروریات کی عکاسی کرے۔
پروگرام میں تجارتی قانون کے ماہرین، پالیسی ساز اداروں اور معاشی تحقیقی تنظیموں کے ساتھ تبادلہ خیال کے ذریعے امریکی مالیاتی نظم و نسق (فنانشل گورننس) کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کی گئی۔ جیسا کہ شرما بتاتی ہیں ’’مجھے بالواسطہ مگر مفید طور پر یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ امریکی مالیاتی منڈیاں کس طرح کام کرتی ہیں اور انہیں کیسے منظم کیا جاتا ہے۔‘‘ ان گفتگوؤں نے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مضبوط اداروں اور منظم ڈھانچوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔
امریکی معاشی طاقت کے ایک بنیادی ستون کے طور پر جدت کا ذکر بار بار ابھرا۔ شرما کہتی ہیں ’’جامعات اور جدت کے مراکز (انوویشن ہبس) رابطہ کار کا کام کرتے ہیں، جو تحقیق، سرمایہ، ٹیلنٹ اور منڈیوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ سرکاری و نجی شراکت داریاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ جدت قابلعمل مصنوعات، اسٹارٹ اپس اور علاقائی معاشی مواقع کی صورت اختیار کر سکے۔
آگے کی راہ
شرما امریکہ اور ہندوستان کے درمیان گہرے تعاون کے بھرپور امکانات دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’جدید پیداوار ، ڈیجیٹل تجارت، توانائی اور اسٹارٹ اپ ایکوسسٹمس میں وسیع مواقع موجود ہیں۔‘‘ وہ ریاستی سطح پر، نیز جامعات اور انوویشن ہبس کے درمیان تعاون کو مضبوط، باہمی فائدے پر مبنی معاشی تعلقات کی تعمیر کے لیے اہم قرار دیتی ہیں۔
آئی وی ایل پی سے حاصل ہونے والے کئی اسباق ہندوستان میں ان کے پالیسی کام کے لیے براہِ راست موزوں ہیں۔ وہ غور کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’مقامی معاشی اداروں کو بااختیار بنانے، صنعت اور حکومت کے درمیان مکالمے کو مضبوط کرنے اور چھوٹے کاروباروں و برآمد کنندگان کے لیے مربوط معاونتی نظام قائم کرنے پر زور ہندوستانی تناظر میں بھی نہایت قابلِ اطلاق ہے۔‘‘
ایک خاص طور پر قابلِ ذکر نکتہ امریکہ میںکریئر کے ابتدائی مرحلے پر آگاہی پر توجہ تھا، جیسا کہ ’بی پرو بی پراؤڈ‘ اقدام، جس کا مقصد کم عمری سے ہی فنی اور تکنیکی پیشوں کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
مجموعی طور پریہ اسباق واضح کرتے ہیں کہ معاشی قیادت کے لیے امریکی طریقۂ کار نہ صرف مضبوط اور لچکدار ہے بلکہ عالمی سطح پر گہرا ئی کے ساتھ اثر انداز بھی ہوتا ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کانگریس لیڈروں راہل گاندھی، ملیکارجن…
ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں بھاری جانی نقصان کی…
انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے شاردیہ نوراتری کے مبارک…
دور دراز جزائر تک ایندھن کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی کو ملے گی تقویت،…
جالندھر میں واقع لوولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کے 21 سالہ طالب علم کی…
بنگلہ دیش نے دوسری اننگز میں 6 وکٹوں پر 223 رنز بنائے، حسن محمود نے…