بین الاقوامی

US-NATO Relations: گرین لینڈ پر امریکہ کا یو ٹرن، ڈونالڈ ٹرمپ ٹیرف کی دھمکی سے ہٹے پیچھے، ٹرمپ کی نیٹو کے ساتھ خفیہ سمجھوتہ یا سیاسی حکمت عملی؟

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے اچانک فیصلے کی وجہ سے عالمی خبروں میں چھا گئے ہیں۔ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک کو ٹیرف لگانے کی دھمکی دینے والے ٹرمپ نے حیران کن طور پر آٹھ یورپی ممالک پر مجوزہ درآمدی محصولات واپس لے لیے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب چند روز قبل ہی ٹرمپ کھلے عام یہ کہہ چکے تھے کہ گرین لینڈ کو امریکہ کے “حق، اختیار اور ملکیت” میں ہونا چاہیے۔ اس اچانک یوٹرن نے بین الاقوامی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس کے پیچھے نیٹو کے ساتھ کوئی خفیہ مفاہمت کارفرما ہے۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو محض ٹیرف واپسی کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے آرکٹک خطے کی سیاست، عالمی سلامتی اور طاقت کے توازن سے جوڑ کر سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں یورپ میں اس فیصلے سے راحت کی سانس لی گئی ہے، وہیں عالمی تجزیہ کار اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

نیٹو کے ساتھ خفیہ سمجھوتہ یا سیاسی حکمتِ عملی؟

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو قیادت کے ساتھ آرکٹک سلامتی کے حوالے سے مستقبل کا ایک جامع فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جسے انہوں نے “ہمیشہ کے لیے ہونے والا معاہدہ” قرار دیا۔ ان کے مطابق اس فریم ورک سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔ اگرچہ اس مبینہ معاہدے کی کوئی باضابطہ دستاویز یا تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، لیکن ڈیووس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد ٹرمپ کے بیانات نے اس قیاس کو تقویت دی ہے کہ گرین لینڈ اور آرکٹک خطہ اس مفاہمت کا مرکزی نکتہ ہے۔ اسی بنیاد پر یکم فروری سے نافذ ہونے والے ٹیرف منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب نیٹو کے ساتھ ایک مشترکہ حکمتِ عملی طے پا گئی ہے تو یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ مذاکرات کی قیادت کریں گے اور براہ راست انہیں رپورٹ کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر طنز کر چکے تھے، جس سے ان کے موقف میں تضاد نمایاں ہوا۔گرین لینڈ پر امریکی دعوے نے یورپ، خاص طور پر ڈنمارک کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ڈنمارک نے دوٹوک انداز میں کہا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ نیٹو میں بھی اس بیان بازی سے بے چینی پیدا ہو گئی تھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹیرف واپسی کے اعلان نے حالات کو کسی حد تک سنبھال لیا۔

اسی دوران گرین لینڈ کی مقامی حکومت نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور ہنگامی حالات کے لیے کم از کم پانچ دن کا ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے بھارت کے حوالے سے بھی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑی تجارتی ڈیل کے امکان کا اشارہ دیا، جسے بھارت میں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

4 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

5 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

5 hours ago