روس نے ڈرون حملے کی مدد سے چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چوتھے پاور یونٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ روسی ڈرونز نے چرنوبل کے ناکارہ جوہری پاور پلانٹ پر حملہ کیا، جو عالمی جوہری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خود اس کی اطلاع دی ہے واضح رہے کہ ماہرین روس کے اس حملے کو عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ چرنوبل میں بنایا گیا یہ خصوصی یونٹ یوکرین، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد تابکاری کے خطرات سے بچنا تھا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے اور جوہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے حملے عالمی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔
آگ پر قابو پالیا گیا
صدر زیلنسکی کی تصدیق کے بعد فائر سیفٹی حکام نے بتایا کہ چرنوبل پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر دنیا کو چرنوبل جیسے حساس مقامات پر خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔
تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں
روسی ڈرون حملے کے بعد چرنوبل پلانٹ میں تابکاری کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات کے بعد ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال تابکاری کی غیر معمولی سطح کا پتہ نہیں چلا ہے۔ پلانٹ کے اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کسی بھی خطرے سے نمٹا جا سکے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی سفیر سرجیو گور نے ریلائنس انڈسٹریز کے جام…
وزیر اعظم نریندر مودی 25 اکتوبر 2026 کو اپنے پارلیمانی حلقے وارانسی کا دورہ کریں…
دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا…
اتر پردیش کے گورکھپور کے گلریہا علاقے میں درگا مورتی وسرجن کے دوران ٹریکٹر ٹرالی…
اجین سے ایودھیا تک دگ وجے سنگھ کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل ’ستیہ سناتن سوا…
ہندوستان کی آزادی کے وقت تاریخی سینگول کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے…