بین الاقوامی

Russia Ukraine War—Donald Trump 28 Point Peace Plan : ٹرمپ کا 28 نکاتی امن منصوبہ، زیلنسکی نے کہا- یوکرین کو لینا ہوگا مشکل فیصلہ

روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا خاتمہ تلاش کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک 28 نکاتی امن منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ کوشش غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرنے کے بعد روس-یوکرین کے لیے کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے غزہ کے لیے پہلے ہی 20 نکاتی پلان تیار کیا تھا اور اب وہ یوکرین میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے اس نئے ڈرافٹ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے پیش کردہ 28 نکاتی امن منصوبے پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی بھی رائے سامنے آئی ہے۔ یوکرین کے بعض حکام نے اس ڈرافٹ کو غیر منطقی، ناقابل قبول اور ملک کی خودمختاری پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ تاہم صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے وژن پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، حالانکہ کچھ نکات پر پہلے ہی اختلاف ظاہر کیا جا چکا ہے۔

اس منصوبے کے تحت کیو کے بعض بڑے علاقوں، خاص طور پر ڈونیٹسک اور لوہانسک کے کچھ حصوں کو روس کے کنٹرول میں چھوڑنے کی تجویز ہے۔ یوکرین کو اپنے فوجی دستوں کی تعداد میں کمی کرنی ہوگی اور ناٹو میں شمولیت نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا، جو زیلنسکی پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ منصوبہ میں کریمیا، لوہانسک اور ڈونیٹسک کو رسمی طور پر روس کا حصہ ماننے کی تجویز بھی شامل ہے۔

منصوبے میں فوجی تعداد کو محدود کرنے، وقت کے ساتھ ماسکو پر عائد پابندیاں ہٹانے اور 100 دن کے اندر انتخابات کرانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ یوکرین کو امریکی سیکورٹی کی ضمانت دی جائے گی، تاہم اس کے لیے واشنگٹن کو مالی وسائل فراہم کرنے ہوں گے۔ منصوبے کے مطابق، یوکرین کی دوبارہ تعمیر اور وہاں سرمایہ کاری میں امریکہ کو 50 فیصد منافع حاصل ہوگا اور پابندیاں ہٹنے کے بعد روس کے ساتھ اقتصادی شراکت داری بھی ہوگی۔ صدر زیلنسکی کے دفتر نے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے یوکرین کو یہ ڈرافٹ دیا گیا ہے، جسے امریکی حکام ڈپلومیسی کو مضبوط کرنے کے لیے مددگار قرار دے رہے ہیں۔ منصوبے کا بنیادی مقصد روس کے بڑے حملوں کو روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا ہے۔

تاہم، منصوبے میں کرملین کی وہ مطالبات شامل ہیں جنہیں کیو نے بار بار مسترد کیا ہے اور یہی وجوہات ہیں کہ اب تک جنگ جاری ہے۔ ٹرمپ کے امن منصوبے میں روس کے بعض دیرینہ مفادات کو تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، لیکن یوکرین کی خودمختاری، قومی یکجہتی اور ناٹو کی ممکنہ رکنیت پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ اس منصوبے پر بین الاقوامی لیڈروں کی توجہ مرکوز ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یوکرین اسے قبول کرتا ہے یا نہیں اور اس سے عالمی سطح پر روس-یوکرین تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت ممکن ہو پائے گی یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Football Player Kajra Murmu Dies: فٹبال میدان میں خوفناک حادثہ! میچ کے دوران ٹکر سے بے ہوش ہوا کھلاڑی، علاج کے دوران موت

بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…

2 minutes ago

Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ

کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…

7 minutes ago

Kunal Ghosh Car Attack: ’مجھے واپس لوٹنے کے لیے کہا جا رہا تھا‘، ٹی ایم سی رکن اسمبلی کونال گھوش کی گاڑی پر حملہ، ممتا بنرجی نے کی مذمت

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…

17 minutes ago

Uttar Pradesh Heavy Rain: یوپی میں 50 گھنٹے سے طوفانی بارش کا قہر، 17 افراد جاں بحق، 32 اضلاع میں سیلاب کا خطرہ

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…

46 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar EC Meeting: تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں کمشنر بھی شریک

چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…

1 hour ago