بین الاقوامی

Research: اب ریٹینل اسکین سے دل کی بیماری کے خطرے کی ملے گی جانکاری، کینیڈین سائنسدانوں کی نئی دریافت

نئی دہلی: کینیڈا کے ریسرچرس نے ایک نئی دریافت کی ہے جو مستقبل میں دل کی بیماریوں اور بڑھتی عمر کے خطرے کا پتہ لگانے کے طریقے کو بدل سکتی ہے۔ اس ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ آنکھوں کی چھوٹی خون کی نلیوں (کیپیلریز) کی اسکیننگ کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی شخص میں دل کی بیماری کا خطرہ کتنا ہے اور اس کا جسم حیاتیاتی طور پر کتنی تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے۔

سائنس جرنل ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع اس ریسرچ کے مطابق، آنکھ کا ریٹینا جسم کی چھوٹی خون کی نلیوں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ یعنی آنکھ کے اندر کی نلیاں پورے جسم کے دورانِ خون کے نظام کی صحت کی عکاسی کر سکتی ہیں۔ یہ جانچ بغیر کسی درد یا پیچیدہ عمل کے کی جا سکتی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل میں یہ صحت کی معمول کی اور آسان جانچ بن سکتی ہے۔

کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی میں میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر میری پگیئر نے کہا، ’’ہماری ٹیم نے ریٹینل اسکین، جینیاتی ڈیٹا اور خون کے نمونوں کو ملا کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ عمر بڑھنے کا عمل جسم کی خون کی نلیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’آنکھ جسم کے دورانِ خون کے نظام کی ایک کھڑکی کی طرح ہے۔ آنکھ کی چھوٹی خون کی نلیوں میں جو تبدیلیاں آتی ہیں، وہ عموماً جسم کی دیگر چھوٹی نلیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔‘‘

اس ریسرچ میں 74,000 سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ شرکاء کے ریٹینل اسکین، جینیاتی معلومات اور خون کے نمونوں کا مطالعہ کیا گیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کن لوگوں کی خون کی نلیوں کی ساخت میں فرق ہے اور اس کا ان کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

اہم نتائج

نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن افراد کی آنکھوں کی نلیاں کم شاخ دار اور زیادہ سیدھی تھیں، ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ ساتھ ہی، ان میں بڑھتی ہوئی حیاتیاتی عمر کی نشانیاں بھی دیکھنے میں آئیں، جیسے کہ زیادہ سوزش (انفلامیشن) اور کم متوقع عمر۔

فی الحال دل، فالج (اسٹروک) اور ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کے خطرے کا پتہ لگانے کے لیے مختلف قسم کے ٹیسٹ کرنے پڑتے ہیں، جن میں وقت اور پیسہ دونوں خرچ ہوتے ہیں۔ لیکن اس ریسرچ سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں صرف ایک سادہ آنکھ کی اسکیننگ سے ہی کسی شخص کی عمر اور دل سے متعلق خطرے کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

حالانکہ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانے سے پہلے مزید ریسرچ اور تجربات کی ضرورت ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

7 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

9 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

9 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

10 hours ago