بین الاقوامی

Iran has lost half of its missile stockpile: ایران کو حالیہ کشیدگی میں شدید دھچکا پہنچا پھر بھی وہ مشرق وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کی سب سے بڑی قوت

غزہ میں جنگ بندی کی نازک صورتِ حال کے باوجود، ایران مسلسل امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کر رہا ہے کہ اگر اُسے اشتعال دلایا گیا تو وہ شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اُن کا ملک روزانہ کی بنیاد پر دو سال تک میزائل حملے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن یہ دعویٰ مغربی ممالک کے فوجی ماہرین اور انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کی زد میں آ رہا ہے۔ انٹیلی جنس تجزیوں میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ایرانی دعوے دراصل میدانِ جنگ میں ہونے والے بھاری نقصان پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔

تین ہزار سے پندرہ سو میزائل تک

اوپن سورس انٹیلی جنس معلومات کے مطابق، ایران نے حالیہ کشیدگی کا آغاز تقریباً 3 ہزار میزائلوں اور 500 سے 600 لانچنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن جب 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں نے ایرانی اسلحہ گوداموں اور میزائل تیار کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس کے بعد امریکی حملے ایرانی جوہری تنصیبات پر ہوئے، تو ایران کی میزائل ذخیرہ گاہ 1,000 سے 1,500 میزائلوں اور صرف 150 سے 200 لانچنگ پلیٹ فارمز تک محدود رہ گئی۔ ایران کے امور کے ماہر اور فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ بہنام بن طالبلو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کے نشانے پر ہونے کی وجہ سے ایرانی نظام پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ان میزائلوں کو یا تو استعمال کر لے یا کھو دے۔

پیداوار کی صلاحیت تباہ

ادھر قومی سلامتی کے انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایران کے امور کے ماہر دانی سیترینووچ نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران کی میزائل تیاری کی تمام تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، اور لانچنگ پلیٹ فارمز کا متبادل تیار کرنا اب ایران کے لیے نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایران اسرائیل پر حملہ کرنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے، لیکن اب یہ حملے سیکڑوں کی تعداد میں نہیں ہو سکتے۔

مشرق وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کی سب سے بڑی قوت

ادھر ہیڈسن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ اور مشرق وسطیٰ کے عسکری امور کے ماہر جان کاس اولو نے زور دیا کہ اگرچہ ایران کو حالیہ کشیدگی میں شدید دھچکا پہنچا ہے، پھر بھی وہ مشرق وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کی سب سے بڑی قوت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے حالیہ جنگ میں یہ منظر دیکھا کہ ایران نے اسرائیلی فضائی حدود میں در اندازی کی، جب کہ آئرن ڈوم اور امریکی دفاعی نظام ایک ایک میزائل روکنے کے لیے مسلسل متحرک تھے.

مسلسل اور بھرپور حملے کرنے کی صلاحیت میں کمی 

واضح رہے کہ 12 روزہ جنگ ایک امریکی ثالثی کے تحت فائر بندی پر ختم ہوئی تھی، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت اگرچہ مسلسل اپنی عسکری طاقت پر فخر کا اظہار کر رہی ہے، مگر میدانِ جنگ میں ہونے والے نقصانات، پیداواری نظام کی تباہی اور دشمن کی پیشگی دفاعی کارروائیوں نے ایران کے سامنے راستوں کو بڑی حد تک محدود کر دیا ہے. ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی مسلسل اور بھرپور حملے کرنے کی صلاحیت اب بہت حد تک گھٹ چکی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے طلباء کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کو حق بجانب قرار دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…

13 minutes ago

Slap Case Delhi: ’یہ دیش تمہارے پِتا جی کا نہیں…‘ پرویش ورما پر برسے اروند کیجریوال، گرفتاری کا کیا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…

54 minutes ago

Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…

1 hour ago