بین الاقوامی

Ramadan in Gaza: جنگ بندی مذاکرات ٹھپ ہونے سے غزہ کے باشندوں کو تشویش، کہیں پھر سے شروع نہ ہو جائے جنگ

غزہ: غزہ پٹی میں فلسطینیوں نے اس سال رمضان المبارک کا استقبال بھاری من سے کیا۔ تباہ ہو چکے شہر کے باشندوں کو خدشہ ہے کہ کہیں جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ نہ جائے اور اسرائیلی حملے پھر سے شروع نہ ہو جائیں۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ہفتے کے روز ختم ہو گیا۔ دوسرے مرحلے کے کوئی آثار نہ ہونے کے باعث غزہ کے لوگ اب انتہائی بے چین ہیں اور خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت جنگ پھر سے شروع ہو سکتی ہے۔

غزہ کی سڑکوں پر پہلے لوگوں کی نقل و حرکت رہتی تھی۔ لیکن اب یہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تباہ شدہ مکانات کا ملبہ تباہی کی یاد دلاتی ہے، اور ہوا سے بارود، موت اور سڑنے والی چیزوں کی بدبو آتی ہے۔

جنوبی غزہ کے خان یونس سے تعلق رکھنے والی ام محمد النجار نے کہا، ’’ہر روز جب کوئی گولہ باری نہیں ہوتی، تو تھوڑی سی راحت ملتی ہے۔ لیکن ہم ہمیشہ اس خوف میں رہتے ہیں کہ حملے پھر سے شروع ہو جائیں۔‘‘ حالیہ بمباری میں ان کا گھر بھی تباہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ رمضان امن کا وقت ہونا چاہیے لیکن یہاں امن نہیں ہے۔

غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے چار بچوں کے والد 45 سالہ محمد الدحدود کہتے ہیں کہ ان کے خاندان نے پہلے خوشی سے اپنے گھر کو لالٹینوں اور چمکدار رنگوں سے سجاتا تھا۔ مشرق وسطیٰ کے روایتی پکوان، مکلوبہ اور قطائف کی خوشبو، باورچی خانے سے اٹھتی تھی، اور پورے گھر میں ہنسی کی آوازیں گونجتی تھیں۔

الدحدود نے کہا، ’’رمضان کا مطلب ہوتا تھا خاندان کا افطار کی میز پر ایک ساتھ اکٹھا ہونا، بچوں کی ہنسی کی آواز اور گھر میں کھانے کی خوشبو ہونا۔ اب نہ گھر ہے نہ میز۔ ہم ایک چھوٹے سے خیمے میں رہ رہے ہیں اور ہمارے پاس جو کھانا ہے وہ بمشکل کافی ہے۔‘‘

رفح شہر سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون تساہل ناصر نے کہا، ’’رمضان کا مقدس مہینہ غزہ میں اپنی خوشیاں کھو چکا ہے۔ یہاں کوئی لالٹین ہے، کوئی سجاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہلچل بھرے بازار ہیں۔ اس کے بجائے یہاں موت کی خاموشی ہے اور ہمیشہ تباہی کی بو پھیلتی رہتی ہے۔‘‘

ناصر نے اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے شوہر، بھائیوں اور والدین کو کھو دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے پیارے چلے گئے ہیں اور ہم میں آگے بڑھنے کی طاقت نہیں رہی۔ درد برقرار ہے، اور اب یہ اور بھی بڑھ گیا ہے، کیونکہ رمضان کا مقدس مہینہ ان خاندان کی یادیں لے کر آتا ہے، جسے میں نے کھو دیا ہے۔‘‘

کچھ غزہ کے لوگ درد میں ٹوٹنا نہیں چاہتے۔ وسطی غزہ کے دیر البلاح سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ ارکان رادی نے اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے خیمے میں رمضان کی کچھ سجاوٹیں کی ہیں۔

رادی نے کہا، ’’یہ ایک پیغام ہے کہ ہم ابھی بھی یہاں ہیں۔ ابھی بھی زندگی کو تھامے ہوئے ہیں، چاہے حالات کتنے بھی برے کیوں نہ ہوں، یہاں کوئی حل نہیں ہے، لیکن میں اپنے بچوں کے لیے کچھ امید اور خوشی لانا چاہتی ہوں۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India-Maldives Relations: ہندوستان نے مالدیپ کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی درخواست کو دی منظوری

ہندوستان نے مالدیپ حکومت کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی…

11 minutes ago

Preeti Shekhar Slams Prashant Kishor: ’اپنی اوقات میں رہیے پرشانت کشور‘، بی جے پی کی جنرل سکریٹری پریتی شیکھر کا پی کے پر سخت حملہ

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے متعلق بیان پر بہار کی سیاست گرم، ڈاکٹر پریتی شیکھر…

30 minutes ago

Mamata Banerjee’s statement: ابھجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے پر ممتا بنرجی بولیں، ’گھبراؤ مت، ابھی دیدی آپ کے ساتھ ہے‘

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…

2 hours ago

Union Home Minister Amit Shah: پنجاب میں منشیات اور گینگسٹر ازم پر گھری ’عآپ‘ حکومت، وزیر داخلہ امت شاہ نے قانون و انتظام پر اٹھائے سوالات

پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان…

2 hours ago