بین الاقوامی

Professor Omar Yaghi: نوبل انعام یافتہ سائنس داں عمر یاگی نے ایسی مشین بنائی جو روزانہ ہوا سے 1,000 لیٹر پانی نکال سکتی ہے، یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟

نئی دہلی : یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے کیمسٹری کے پروفیسر اور 2025 کے نوبل انعام یافتہ سائنس داں عمر یاگی نے ایک ایسی مشین تیار کی ہے جو فضا میں موجود نمی سے روزانہ 1,000 لیٹر تک صاف پانی حاصل کر سکتی ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی کمپنی ’اٹوکو‘ (Atoco) کی تیار کردہ یہ مشین 20 فیصد سے بھی کم نمی والے علاقوں میں مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہے۔ اس ایجاد سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنے والی آبادیوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟

اس انقلابی ایجاد کی بنیاد ’ریٹیکولر کیمسٹری‘ (Reticular Chemistry) پر ہے، جس کے بانی عمر یاگی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں میٹل آرگینک فریم ورکس (MOFs) نامی مصنوعی اور انتہائی مسام دار مادوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جنہیں سالماتی سطح پر تیار کیا گیا ہے۔ان مادوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے چند گرام میں موجود سطح کا مجموعی رقبہ فٹ بال کے ایک بڑے میدان کے برابر ہو سکتا ہے۔ یہ مادے انتہائی باریک اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں اور مشین سے گزرنے والی ہوا میں موجود پانی کے سالمات کو جذب کر لیتے ہیں۔اس کے بعد سورج کی قدرتی حرارت یا معمولی حرارتی توانائی کے ذریعے ان مادوں کو گرم کیا جاتا ہے، جس سے جذب شدہ نمی بھاپ میں تبدیل ہو کر باہر نکلتی ہے۔ بعد ازاں اس بھاپ کو ٹھنڈا کرکے دوبارہ پانی میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔روایتی فضائی واٹر جنریٹرز کے برعکس، جنہیں پانی حاصل کرنے کے لیے بجلی سے چلنے والے کولنگ سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے، عمر یاگی کا یہ نظام شمسی حرارت سے چلتا ہے اور بجلی کے روایتی گرڈ پر انحصار نہیں کرتا۔

عالمی آبی بحران سے نمٹنے کی نئی امید

یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ عالمی سطح پر پانی کے شدید بحران سے خبردار کر چکا ہے۔ دنیا میں 2 ارب سے زیادہ افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ سمندری پانی کو صاف کرنے جیسے روایتی طریقے بھی زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں اور ان سے نمکین فضلہ پیدا ہوتا ہے، جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔عمر یاگی کی تیار کردہ یہ مشین ماحول دوست اور قابلِ نقل حل فراہم کرتی ہے۔ اس کا سائز تقریباً 20 فٹ کے مال بردار کنٹینر کے برابر بتایا گیا ہے۔ اسے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں، دور دراز صحرائی بستیوں اور سمندری طوفانوں سے متاثر ہونے والے جزائر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔کیریبین خطے میں سمندری طوفان بیرل جیسے واقعات کے بعد ان مشینوں کے ذریعے فوری طور پر پینے کا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے، وہ بھی مقامی بجلی کے نظام پر انحصار کیے بغیر۔عمر یاگی نے کہا، ’’میلیسا اور بیرل جیسے سمندری طوفانوں نے شدید سیلاب پیدا کیا، گھروں اور فصلوں کو تباہ کیا اور کیریبین کے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ یہ تباہی اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ہمیں ان علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر چھوٹے جزیرہ نما ممالک میں جہاں شدید موسمی حالات کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔‘‘

ذاتی تجربات نے دی ایجاد کی تحریک

عمر یاگی کی اس مہم کے پیچھے ان کی ذاتی زندگی کے تجربات بھی شامل ہیں۔ اردن میں ایک پناہ گزین بستی میں پرورش پانے کے دوران انہوں نے پانی کی قلت کا سامنا کیا تھا۔ انہیں آج بھی وہ وقت یاد ہے جب محلے میں پانی کا ٹینکر پہنچنے کی خبر آہستہ آہستہ پھیلتی تھی اور لوگ پانی ختم ہونے سے پہلے اسے حاصل کرنے کے لیے جلدی کرتے تھے۔انہوں نے ایک حالیہ عملی تجربے کے دوران کہا، ’’سائنس ہمارے پاس موجود ہے، اب ہمیں ان حلوں کو بڑے پیمانے پر عام کرنے کے لیے حوصلے کی ضرورت ہے۔‘‘عمر یاگی مستقبل میں ’ذاتی پانی‘ (Personalized Water) کے تصور کو حقیقت بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جس طرح گھروں میں سولر پینل لگا کر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، اسی طرح مستقبل میں ہر گھر اپنی ضرورت کا پینے کا پانی خود تیار کر سکے گا۔ اس سے پانی کی مرکزی فراہمی کے نظام پر انحصار کم ہوگا۔

گریناڈا میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور

گریناڈا کے جزائر کیریکاؤ اور پیٹیٹ مارٹنیک میں عمر یاگی کی اس ٹیکنالوجی کو پانی کی قلت سے نمٹنے کے ایک ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ علاقے 2024 میں آنے والے سمندری طوفان بیرل کے بعد بھی پانی کی کمی کے مسائل سے متاثر ہیں۔مقامی سرکاری عہدیدار ڈیوون بیکر نے غیر مرکزی آبی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی درآمد کرنے کی لاگت بہت زیادہ ہے، اس عمل میں کاربن کا اخراج بھی ہوتا ہے اور پانی کے آلودہ ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندری طوفانوں سے پانی کی مرکزی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے میں غیر مرکزی نظام کی ضرورت ہے جو روایتی بنیادی ڈھانچے کے ناکام ہونے کے باوجود کام کر سکے۔عمر یاگی اپنی اس ایجاد کو ’’مادے کو نئے انداز میں سمجھنے اور اس کے استعمال کی صلاحیت رکھنے والی سائنس‘‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ عالمی رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سائنسی حل اپنائے جائیں۔

نوبل انعام یافتہ تحقیق سے پانی حاصل کرنے کا نیا راستہ

عمر یاگی کو 2025 میں دو دیگر سائنس دانوں کے ساتھ کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔ انہیں یہ اعزاز میٹل آرگینک فریم ورکس پر ان کی تحقیق کے لیے دیا گیا، جس نے صاف توانائی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں نئی راہیں کھولی ہیں۔ان کا تازہ ترین آبی نظام بھی اسی کیمیائی تحقیق پر مبنی ہے، جس کے ذریعے انسانیت کے ایک بڑے مسئلے یعنی صاف پانی کی فراہمی سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی تقریباً تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں پانی کی دستیابی غیر یقینی ہے۔ تقریباً 2.2 ارب افراد کو محفوظ طریقے سے فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے، جب کہ 4 ارب افراد کو ہر سال کم از کم ایک ماہ تک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایم او ایف پر مبنی عمر یاگی کی یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی نسلوں کے لیے پانی کی پائیدار فراہمی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Amit Shah pays tribute to Sardar Vallabhbhai Patel: آزادی کے بعد صرف 1,218 دن میں سردار پٹیل نے وہ کر دکھایا جو سب کو ناممکن لگتا تھا: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سردار پٹیل نے ہندوستان کے جغرافیائی، سیاسی…

1 hour ago

PMModi pays tribute to Sardar Vallabhbhai Patel: وزیر اعظم مودی سمیت کئی لیڈروں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش پر پیش کی خراج عقیدت

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،…

2 hours ago

Mercury drops to 20.7°C, a 75-year low: دہلی میں بارش سے 75 سال کا ٹوٹا ریکارڈ ، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت گر کر 20.7 ڈگری پر پہنچا

دہلی-این سی آر میں آج آسمان پر ہلکے بادل چھائے رہنے اور دن میں دھوپ…

4 hours ago

Major Fire in Delhi’s Mangolpuri: دہلی کے منگول پوری میں خوفناک آتشزدگی، 4 افراد کی موت، متعد افراد زخمی

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق جمعہ کی رات تقریباً 9:30 بجے آگ لگنے کی اطلاع…

5 hours ago