غزہ امن معاہدہ کے تحت حماس نے 7 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے۔ (فائل فوٹو)
قیدیوں کے امورکے لئے امریکی صدرکے خصوصی نمائندے ایڈم بوہلرنے زوردیا ہے کہ غزہ میں موجود قیدیوں کی واپسی کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی بنیادی شرط ہے۔ انھوں نے پیرکے روز”فوکس نیوز” کو دیئے گئے انٹرویومیں کہا “اگرحماس جنگ بند کرنا چاہتی ہے تو اسے قیدیوں کورہا کرنا ہوگا۔”
انھوں نے مزید کہا “ہم حماس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چارامریکی قیدیوں کی لاشیں بھی واپس کرے۔” جنگ کا خاتمہ یا امریکی حمایت سے محروم، ٹرمپ نے اسرائیل کواختیاردے دیا۔ دوسری جانب، “العربیہ/الحدث” کے ذرائع نے پیرکے روزبتایا کہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کودوٹوک اندازمیں اختیاردیا ہے کہ یا تووہ غزہ میں جنگ ختم کرے یا امریکہ کی حمایت سے دست برداری اختیارکرے۔ ذرائع کے مطابق، غزہ میں کسی معاہدے پردباؤڈالنے کے لئے امریکہ کی یہ پالیسی خلیجی ممالک کے غیرمعمولی دباؤکے بعد سامنے آئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ امریکی دباؤاس مرتبہ بہت شدید اورواضح ہے اوراسرائیل ممکنہ طورپرایک فیصلہ کن معاہدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
نیتن یاہوکے دفترمیں کشیدگی کا ماحول
ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکے دفترمیں اس وقت تناؤکی کیفیت ہے، جوامریکی صدرٹرمپ کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیئے گئے سخت پیغام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس دوران یہ بھی واضح ہوا کہ امریکہ اورحماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔ “امریکی اخبار”واشنگٹن پوسٹ” نے ایک با خبرذریعہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ “اگرآپ نے غزہ میں جنگ نہ روکی توہم آپ کا ساتھ چھوڑدیں گے۔” اسی ذریعے نے مزید کہا “سیاسی لحاظ سے نیتن یاہو کے پاس جنگ روکنے کا راستہ موجود ہے کیونکہ کنیسٹ اور اسرائیلی عوام کی اکثریت اس کی حمایت کر سکتی ہے، مگرخود نیتن یاہو میں سیاسی عزم کی کمی ہے۔”
پابندیوں کی دھمکیاں
یاد رہے کہ نیتن یاہو نے اتوارکی شام غزہ میں کچھ غذای اشیاء داخل ہونے کی اجازت دی، جس کا اعلان اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک نئی وسیع زمینی کارروائی کے آغازکے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔ اسرائیلی وزراء نے کہا ہے کہ نیتن یاہوکا یہ فیصلہ امریکی دباؤکے تحت کیا گیا۔ یہ بات اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے بتائی۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق وزیرِخارجہ جدعون ساعر نے کہا “اگر امداد کی اجازت نہ دی گئی توپابندیوں کی دھمکی ہے اوریہ دباؤصدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہے۔” اسی روزسیکورٹی کابینہ کے اجلاس میں وزیر قومی سلامتی ایتماربن گوئرنے امداد کے معاملے پرووٹنگ کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کردیا گیا۔ انھوں نے نیتن یاہو کے اس فیصلے کو “سنگین غلطی” قراردیا، اورکہا کہ یہ اقدام اتفاقِ رائے سے نہیں کیا گیا۔ مشیر قومی سلامتی، تساحی ہنگبی نے بن گوئر پر”اشتعال انگیزی” کا الزام لگایا۔
بشکریہ العربیہ اردو
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…