بین الاقوامی

Israel-Lebanon Conflict: اسرائیلی حملے میں لبنانی صحافی کی ہلاکت پر وزیر اعظم نواف سلام برہم، کہا- اسرائیل کے لیے یہ اب عام ہو گیا ہے

بیروت: لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ایک صحافی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی 17 اپریل کو عمل میں آئی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان اگلے مرحلے کی بات چیت جمعرات کو متوقع ہے۔

وزیر اعظم کا سخت ردعمل
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا، امدادی ٹیموں کو پہنچنے سے روکنا اور یہاں تک کہ ان کے پہنچنے کے بعد بھی ان کی جگہوں کو پھر سے ٹارگیٹ کرنا کھلے عام جنگی جرائم ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’جنوبی لبنان میں میڈیا کارکنوں کو اس وقت نشانہ بنانا جب وہ اپنا پیشہ ورانہ کام انجام دے رہے ہوتے ہیں، اب کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ یہ ایک معمول بن گیا ہے، جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔”

بین الاقوامی فورمز پر معاملہ اٹھانے کا اعلان
نواف سلام نے مزید کہا کہ لبنان ان واقعات کو عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھائے گا۔ انہوں نے جاں بحق صحافی عمل خلیل کے اہل خانہ، ساتھیوں اور لبنانی میڈیا برادری سے اظہارِ تعزیت کیا، جبکہ زخمی صحافی زینب فراز کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

حملے کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق ابتدائی اسرائیلی حملہ جنوبی لبنان کے ایک گاؤں التیری میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں۔

اس کے بعد اسی گاؤں کی ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں ایک صحافی ملبے تلے دب کر زخمی ہو گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مقامی میڈیا ادارے ’الاخبار‘ سے وابستہ صحافی عمل خلیل موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ ان کے ساتھیوں نے اس کی تصدیق کی۔

کشیدگی میں اضافہ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جا رہی ہے اور جنگ بندی کے باوجود اس طرح کے حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ لبنان نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

1 hour ago