بین الاقوامی

PM Modi China Visit SCO: گلوان جھڑپ کے بعد پی ایم  مودی کا پہلا چین کا دورہ، آخر SCO اجلاس اتنا خاص کیوں ہے؟

وزیراعظم نریندر مودی اپنے دو روزہ جاپان کے دورے کے بعد چین پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ آج چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گلوان وادی میں جھڑپ کے بعد یہ مودی کا پہلا چین کا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2018 میں چین گئے تھے۔

گلوان کے بعد بگڑے تعلقات

2020 میں گلوان میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات شدید متاثر ہوئے تھے۔ نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں بلکہ مذہبی یاترائیں بھی روک دی گئیں۔ وزیراعظم مودی کے اس دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

تاریخ کی سب سے بڑی SCO سمٹ

چین کے تیانجن شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اب تک کا سب سے بڑا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں نہ صرف تنظیم کے بنیادی رکن ممالک شریک ہو رہے ہیں بلکہ دنیا بھر کے 20 کے قریب ممالک اس سمٹ کا حصہ بنیں گے۔ اس اجلاس میں وزیراعظم مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن عالمی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ ان کے ساتھ ایشیا کے تقریباً تمام بڑے اور طاقتور ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم مودی، چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں، جبکہ پیر کے روز مودی اور صدر پوتن کی دوطرفہ ملاقات طے ہے۔

یہ SCO اجلاس کیوں خاص ہے؟

سات سال بعد مودی کا چین کا دورہ

یہ مودی کا سات سال بعد چین کا پہلا دورہ ہے، اور گلوان جھڑپ کے بعد پہلی بار وہ چینی سرزمین پر قدم رکھ رہے ہیں، جس پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

ٹرمپ کا ہائی ٹیرف

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں دنیا کے بیشتر ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں، جن میں بھارت پر 50٪ اور چین پر 30٪ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ SCO اجلاس میں شامل ممالک ایک متبادل عالمی اتحاد کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین کی امریکہ کو کھلی چیلنج

صدر شی جن پنگ اس اجلاس کو امریکہ کے خلاف ایک مضبوط پیغام دینے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ چین کو ایک ایسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو روس اور بھارت جیسے ممالک کے ساتھ مل کر امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتا ہے۔

بھارت-چین تعلقات میں بہتری

SCO اجلاس میں صرف رکن ممالک ہی نہیں بلکہ مبصر اور شراکت دار ممالک بھی شامل ہو رہے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ بھارت کی کوشش ہو گی کہ دہشت گردی جیسے مسائل پر عالمی حمایت حاصل کرے۔ یاد رہے کہ حالیہ SCO وزرائے دفاع اجلاس میں بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے مشترکہ اعلامیے پر اس لیے دستخط نہیں کیے تھے کیونکہ اس میں پہلگام حملے کا ذکر نہیں تھا۔

گلوان جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ سرحد پر کشیدگی میں کمی آئی ہے، اور براہ راست پروازیں بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ چین نے کئی سال بعد پہلی بار کالاش مانسروور یاترا کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔

ابھی بھی باقی ہیں کئی تنازعات

وزیراعظم مودی کے اس دورے سے پہلے ہی چین کے ساتھ تعلقات میں کچھ نرمی دکھائی دی تھی۔ حالیہ دنوں میں چینی وزیرِ خارجہ نے بھارت کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد سرحد اور تجارت جیسے اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی۔ تاہم، کچھ تنازعات اب بھی باقی ہیں، جیسے:

ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) پر تاحال مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔

چین نے برہماپترا ندی پر بڑا ڈیم بنایا ہے، جس پر بھارت کو اعتراض ہے۔

بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔

گلوان جھڑپ کے بعد بھارت نے کئی چینی کمپنیوں کو اپنے ہاں کاروبار کرنے سے روک دیا تھا۔

کن امور پر بنی مفاہمت؟

اکتوبر 2024 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت، گلوان اور دیپسانگ جیسے علاقوں سے دونوں ممالک نے فوج پیچھے ہٹا لی۔

بھارت اور چین کے درمیان براہ راست پروازیں بحال ہو چکی ہیں۔

چین نے بھارت کو ریئر ارتھ منرلز (نایاب معدنیات) اور کھاد سازی کی مشینری فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کالاش مانسروور یاترا ایک بار پھر شروع کر دی گئی ہے۔

صحافیوں اور سیاحوں کے لیے ویزا قوانین بھی نرم کیے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Suchika Tariyal Makes History: ایشین گیمز 2026 میں سوچکا تاریال نے رقم کی تاریخ، ایم ایم اے میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…

21 minutes ago

Jio Home Customers: جیو ہوم کے صارفین کو ملے گا ایمزون پر ائم لائٹ ایک سال مفت

3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…

31 minutes ago