اوسلو: وزیر اعظم نریندر مودی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ اہم دو طرفہ ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے ڈنمارک کے بڑے پنشن فنڈز کو بھارت میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت بھی دی۔ یہ ملاقات تیسرے بھارت-نارڈک سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں بھارت اور نارڈک ممالک کے رہنماؤں نے باہمی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور ماحول دوست ترقی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت اور ڈنمارک کی دوستی نے گزشتہ چند برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے وسائل، صاف توانائی، شپنگ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق آنے والے برسوں میں فن ٹیک، صنعت، دفاع، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اسی طرح کے تعاون کی توقع ہے۔ مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈنمارک کے پنشن فنڈز کو بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں بنیادی ڈھانچے، گرین انرجی، مالیاتی خدمات اور جدید صنعتی منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے ڈنمارک کی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ دونوں معیشتوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا اور اس سے تجارت و سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہوگا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مشترکہ ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزارت نے بتایا کہ دونوں ممالک نے “بھارت-ڈنمارک گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا، جس میں ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور گرین ٹرانزیشن کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی نے بھارت کی جانب سے ڈنمارک کی ماحول دوست اور جدید ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہنے کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں پائیدار اور گرین حل اپنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات کے دوران آبی وسائل کے شعبے میں تعاون کا بھی ذکر کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے وارانسی میں “اسمارٹ لیبارٹری آن کلین ریورز” کے قیام کو بھارت اور ڈنمارک کے درمیان کامیاب اشتراک کی مثال قرار دیا۔ یہ منصوبہ بھارت حکومت، آئی آئی ٹی بنارس ہندو یونیورسٹی اور ڈنمارک حکومت کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، مواصلات، اعلیٰ تحقیق، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دفاع اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں اشتراک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے ڈنمارک کی کمپنیوں کو گجرات انٹرنیشنل فنانس ٹیک سٹی یعنی “گفٹ سٹی” میں اپنی موجودگی قائم کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی مالیاتی اور تکنیکی تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…