وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پانچ ممالک کے اہم غیر ملکی دورے مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو وطن واپس پہنچ گئے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات، اٹلی، نیدرلینڈز، سویڈن اور ناروے کا سفر کیا، جہاں کئی اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور دوطرفہ امور پر بات چیت ہوئی۔ اس سفارتی دورے کی ایک خاص بات مختلف عالمی رہنماؤں کو ہندوستان کی روایتی ثقافت اور دستکاری سے جڑے خصوصی تحائف پیش کرنا بھی رہی۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو وزیر اعظم مودی کی جانب سے دیا گیا شِرُوئی للی سلک اسٹال خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جسے ہندوستان کی ثقافتی وراثت اور شمال مشرقی ریاستوں کی دستکاری کی خوبصورت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے جارجیا میلونی کو دو خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں آسام کا مشہور موگا سلک اسٹال اور منی پور سے متاثر شِرُوئی للی سلک اسٹال شامل ہے۔ موگا سلک کو آسام کا “گولڈن سلک” کہا جاتا ہے اور یہ برہم پتر وادی کی ایک نایاب اور شاہانہ پہچان سمجھا جاتا ہے۔ اس سلک کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا قدرتی سنہری رنگ اور دیرپا مضبوطی ہے۔ یہ ریشم کسی مصنوعی رنگ کے بغیر تیار کیا جاتا ہے اور دنیا کے مضبوط ترین قدرتی ریشوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موگا سلک کی چمک وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جاتی ہے اور یہ کئی نسلوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
موگا سلک نمی جذب کرنے اور دھوپ سے تحفظ فراہم کرنے جیسی خصوصیات بھی رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے نہایت آرام دہ اور پائیدار تصور کیا جاتا ہے۔ اٹلی کی شاندار ٹیکسٹائل روایت اور ہندوستان کے اس منفرد ریشمی فن کے درمیان قدرتی ہم آہنگی دیکھی جا رہی ہے، جس سے دونوں ممالک کے ثقافتی رشتوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ اسی طرح شِرُوئی للی سلک اسٹال نے بھی عالمی سطح پر لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ یہ اسٹال منی پور کے شِرُوئی کاشونگ پہاڑوں سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے، جہاں دنیا میں منفرد شِرُوئی للی پھول پایا جاتا ہے۔ یہ پھول ہلکے گلابی اور سفید رنگ کی گھنٹی نما پنکھڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور دنیا میں صرف منی پور کے اسی علاقے میں کھلتا ہے۔ تنگخول ناگا برادری کے لیے یہ پھول پاکیزگی، شناخت اور ثقافتی فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسٹال میں نہ صرف ہمالیائی دستکاری کی خوبصورتی شامل ہے بلکہ اس میں مقامی روایات، لوک کہانیوں اور ثقافتی جذبات کی جھلک بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹلی میں بھی للی پھول کو خاص ثقافتی اہمیت حاصل ہے، جہاں اسے صدیوں سے پاکیزگی، نفاست اور فنکارانہ حسن کی علامت مانا جاتا ہے۔ یہی مشترکہ علامتی رشتہ ہندوستان اور اٹلی کے درمیان ایک منفرد ثقافتی پل قائم کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا کو بھی خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں آگرہ کی مشہور پچّیکاری فن سے تیار کیا گیا سنگ مرمر کا خوبصورت باکس اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے عظیم فنکار پنڈت بھیم سین جوشی اور ایم ایس سبھولکشمی کی موسیقی کی سی ڈیز شامل تھیں۔ سنگ مرمر کی جڑائی کا یہ فن دراصل اٹلی کے شہر فلورنس سے شروع ہوا تھا، جو بعد میں ہندوستان میں مغلیہ دور کے شاہی سرپرستی میں فروغ پایا اور آج دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی و فنکارانہ رشتے کی ایک خوبصورت علامت بن چکا ہے۔
بھارت ایکپریس اردو۔
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…