وزیر اعظم نریندر مودی پانچ ممالک کے اہم سفارتی دورے مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو وطن واپس پہنچ گئے۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات، اٹلی، نیدرلینڈز، سویڈن اور ناروے کا سفر کیا، جہاں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، تجارت، غذائی تحفظ، زراعت اور اسٹریٹجک تعاون جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سفارتی دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو کو ہندوستان کے روایتی زرعی ورثے کی علامت سمجھے جانے والے مختلف اقسام کے چاول اور ملیٹس پر مبنی صحت بخش تحائف پیش کیے، جنہیں عالمی سطح پر کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے پیش کیے گئے خصوصی تحائف میں کیرلم کا پلکّڑ ریڈ رائس، مغربی بنگال کا گووند بھوگ چاول، انڈو-گنگیٹک خطے کا خوشبودار باسمتی چاول، آسام کا جوہا رائس اور اتر پردیش کا کالا نمک چاول شامل تھا۔ ان تمام اقسام کی اپنی الگ خوشبو، ذائقہ اور غذائی خصوصیات ہیں، جو ہندوستان کی زرعی تنوع اور روایتی غذائی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے ایف اے او سربراہ کو ملیٹس سے تیار کیے گئے صحت بخش “ملیٹ بارس” بھی تحفے میں دیے، جو جدید دور میں غذائیت سے بھرپور خوراک کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
پلکّڑ ریڈ رائس، جسے “مٹّا” یا “پلکّڑن مٹّا” بھی کہا جاتا ہے، کیرلم کے ضلع پلکّڑ کی زرخیز سیاہ مٹی میں اگائی جانے والی ایک قدیم اور مقامی دھان کی قسم ہے۔ اس چاول کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا سرخی مائل بھورا رنگ اور موٹا دانہ ہے، جو کم پالش ہونے کی وجہ سے اپنی قدرتی غذائیت برقرار رکھتا ہے۔ یہ چاول فائبر، میگنیشیم اور وٹامن بی-6 سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔ جی آئی ٹیگ حاصل کرنے والا یہ چاول مغربی گھاٹ کی روایتی زرعی ثقافت کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ مغربی بنگال کا گووند بھوگ چاول اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے نہایت مقبول ہے۔ اس کے چھوٹے اور بیضوی دانے اور دودھیا چمک اسے دیگر اقسام سے منفرد بناتے ہیں۔ یہ چاول اپنی مکھن جیسی میٹھی خوشبو کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پکنے کے بعد اس کی ہلکی چپچپی ساخت پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے کھیر، پائیش اور کھچڑی جیسے روایتی پکوانوں کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ بنگال میں اسے خصوصی تہواروں اور مذہبی تقریبات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
باسمتی چاول، جسے “خوشبو کی ملکہ” کہا جاتا ہے، ہندوستان کے سب سے مشہور زرعی برآمدی مصنوعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ چاول انڈو-گنگیٹک میدانوں میں اگایا جاتا ہے اور اس کی خاصیت اس کے لمبے، باریک اور خوشبودار دانے ہیں، جو پکنے کے بعد تقریباً دوگنا لمبے ہو جاتے ہیں۔ باسمتی چاول کو خاص انداز میں محفوظ اور تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کی قدرتی خوشبو اور ذائقہ برقرار رہے۔ یہ گلوٹین فری ہوتا ہے اور اس کا گلیسیمک انڈیکس بھی نسبتاً کم مانا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے صحت کے لیے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ آسام کا جوہا رائس بھی اپنی منفرد خوشبو کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ چاول برہم پتر وادی میں اگایا جاتا ہے اور “سالی” یعنی سردیوں کی فصل کے زمرے میں شامل ہے۔ اس کے چھوٹے دانے اور میٹھی خوشبو اس میں موجود قدرتی تیلوں کی زیادہ مقدار کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جوہا رائس اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ ہلکا مکھنی محسوس ہوتا ہے۔
اتر پردیش کے ترائی علاقے، خصوصاً سدھارتھ نگر میں پیدا ہونے والا کالا نمک چاول بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسے “بدھا رائس” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی پہچان اس کا سیاہ چھلکا اور خوشبودار درمیانہ دانہ ہے۔ یہ چاول آئرن، زنک اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہونے کے باعث اسے صحت کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے پیش کیے گئے ملیٹ بارس بھی خاص توجہ کا مرکز بنے۔ جوار اور باجرے جیسے موٹے اناج مہاراشٹر سمیت ملک کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پیدا کیے جاتے ہیں۔ یہ اناج کم بارش اور نیم خشک آب و ہوا میں بھی بہتر پیداوار دیتے ہیں، اسی لیے انہیں موسمیاتی تبدیلی کے دور میں مستقبل کی اہم فصلیں تصور کیا جا رہا ہے۔ فائبر، پروٹین اور ضروری معدنیات سے بھرپور یہ ملیٹس اب جدید غذائی مصنوعات کی شکل میں بھی مقبول ہو رہے ہیں۔ ملیٹ بارس روایتی ہندوستانی زراعت اور جدید صحت بخش طرز زندگی کا خوبصورت امتزاج سمجھے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکپریس اردو۔
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…