بین الاقوامی

PM Modi Five Countries Visit: چھ دن، پانچ ممالک اور 140 گھنٹے کا میراتھن دورہ: جانئے کیسے یو اے ای، نیدرلینڈ، ناروے اور اٹلی سے وزیر اعظم مودی نے بدلی بھارت کی قسمت؟

وزیر اعظم نریندر مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔ تقریباً 140 گھنٹوں پر محیط اس چھ روزہ میراتھن دورے میں متعدد اہم معاہدوں، سرمایہ کاری منصوبوں اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کا اعلان کیا گیا، جنہیں بھارت کے مستقبل کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

یو اے ای سے تیل اور سرمایہ کاری کی بڑی ڈیل
وزیر اعظم مودی کے دورے کا پہلا مرحلہ متحدہ عرب امارات تھا، جہاں انہوں نے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان سات مفاہمتی معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں سب سے اہم اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت یو اے ای کی سرکاری کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی بھارت کے محفوظ ذخائر میں تین کروڑ بیرل خام تیل ذخیرہ کرے گی۔ کسی جنگ یا عالمی بحران کی صورت میں اس ذخیرہ شدہ تیل پر پہلا حق بھارت کا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یو اے ای نے بھارت کے انفراسٹرکچر، بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا۔ گجرات کے وڈینار میں شپ ریپیرنگ سینٹر قائم کرنے کی تجویز کو بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

نیدرلینڈز سے سیمی کنڈکٹر اور منرل ٹیکنالوجی
دورے کے دوسرے مرحلے میں وزیر اعظم مودی نیدرلینڈز پہنچے، جہاں انہوں نے ڈچ قیادت اور وزیر اعظم روب جیٹن سے ملاقات کی۔ اس دورے میں 17 معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں سیمی کنڈکٹر اور کرٹیکل منرلز سے متعلق معاہدوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ڈچ کمپنی اے ایس ایم ایل نے بھارتی کمپنی ٹاٹا الیکٹرانکس کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا۔ گجرات کے دھولیرا میں بھارت کے پہلے بڑے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کے قیام میں یہ تعاون اہم مانا جا رہا ہے۔ اس معاہدے سے بھارت کی چین، تائیوان اور جنوبی کوریا پر چِپس کے لیے انحصار کم ہونے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیدرلینڈز بھارت کو لیتھیم، نکل، کوبالٹ اور دیگر اہم معدنیات کی تلاش اور پروسیسنگ کی جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کرے گا، جسے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا توڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران نیدرلینڈز نے چول سلطنت کے دور کے 24 نایاب تانبے کے تاریخی کتبے بھی بھارت کو واپس کیے، جو کئی دہائیوں پہلے یورپ منتقل ہوگئے تھے۔

سویڈن میں یورپ کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدے کی راہ ہموار
17 مئی کو وزیر اعظم مودی سویڈن پہنچے، جہاں انہیں ملک کے اعلیٰ قومی اعزاز “رائل آرڈر آف پولر اسٹار” سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے سویڈن کے وزیر اعظم کے ساتھ چھ اہم اسٹریٹجک معاہدے کیے۔ اس دورے کی سب سے بڑی کامیابی بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کی صدر نے یقین دہانی کرائی کہ سال کے اختتام تک اس معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔ ماہرین اسے “مدر آف آل ڈیلز” قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے بعد بھارت اور یورپ کے درمیان زیادہ تر اشیا پر ٹیکس ختم یا کم ہو جائے گا، جس سے بھارتی برآمدات کو زبردست فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

ناروے کے ساتھ گرین انرجی شراکت داری
18 مئی کو وزیر اعظم مودی ناروے پہنچے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے تاریخی تھا کہ 43 برس بعد کوئی بھارتی وزیر اعظم ناروے گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان 12 اہم معاہدے ہوئے، جن میں “گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ” نمایاں رہی۔ ناروے اپنی تقریباً 98 فیصد بجلی صاف توانائی سے پیدا کرتا ہے۔ بھارت نے 2030 تک 500 گیگاواٹ کلین انرجی پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے ناروے سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ ناروے سے ایل پی جی اور خام تیل کی خریداری بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بھارت کو متبادل توانائی ذرائع دستیاب رہیں گے۔

اٹلی کے ساتھ چین کے بی آر آئی کا متبادل
دورے کے آخری مرحلے میں وزیر اعظم مودی اٹلی پہنچے، جہاں ان کی ملاقات اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کی گرمجوشی اور مشترکہ پروگراموں نے عالمی میڈیا میں کافی توجہ حاصل کی۔ دونوں ممالک نے “انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور” یعنی آئی ایم ای سی منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس منصوبے کے ذریعے بھارت کو مشرق وسطیٰ کے راستے یورپ سے ریلوے، بندرگاہوں اور بحری نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ای سی چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کا متبادل بن سکتا ہے۔ اس نئے راستے سے بھارت سے یورپ تک سامان پہنچانے میں 30 سے 40 فیصد وقت اور لاگت کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بھارت اور اٹلی نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو “اسپیشل اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کا درجہ دیتے ہوئے 2029 تک دوطرفہ تجارت کو 20 ارب یورو تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دورے کا مجموعی اثر
سیاسی اور اقتصادی ماہرین کے مطابق وزیر اعظم مودی کا یہ 140 گھنٹوں پر مشتمل دورہ صرف سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بھارت کی طویل مدتی اقتصادی اور اسٹریٹجک پالیسی کا اہم حصہ تھا۔ یو اے ای سے توانائی سلامتی، نیدرلینڈز سے سیمی کنڈکٹر اور معدنیات، سویڈن اور ناروے سے گرین انرجی تعاون، جبکہ اٹلی کے ساتھ عالمی تجارتی راہداری اور ٹیکنالوجی شراکت داری جیسے اقدامات بھارت کو عالمی سطح پر زیادہ مضبوط اور خود کفیل بنانے کی سمت اہم قدم مانے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے نے نہ صرف بھارت کے عالمی تعلقات کو نئی بلندی دی بلکہ چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے مقابلے میں نئی سفارتی صف بندی کا بھی واضح اشارہ دیا ہے۔

بھارت ایکپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Balika Vadhu: ’بالیکا ودھو‘ کے 18 سال، چھوٹی آنندی بنیں اسٹار، ایک نے خودکشی کی تو دو فنکاروں کا ہوگیا انتقال

کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…

11 minutes ago

Nasha Mukt Punjab Yatra: نشہ مکت پنجاب یاترا، 30 ستمبر کو جالندھر میں امت شاہ کریں گے اختتامی پروگرام سے خطاب

بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…

55 minutes ago

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

1 hour ago

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

3 hours ago