اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی کمیٹی نے پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے حق میں 5 اگست سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی روز عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہوں گے۔ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے پارلیمانی امور اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے معروف انگریزی روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے تحریک کے آغاز کے لیے 5 اگست کی تاریخ طے کی ہے۔ اس تحریک میں عوامی جلسے، احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی منصوبے اور دیگر سرگرمیوں کو حتمی شکل دینے کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اجلاس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو عمران خان کی قید کے تین برس مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالتیں عمران خان کو انصاف فراہم نہیں کر رہیں اور ملک میں جاری ناانصافی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
اس سے قبل جون میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پاکستان کی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق دونوں نے سزا معطل کرنے اور اپیل زیرِ سماعت رہنے تک رہائی کی درخواست دی ہے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے مئی میں سزا معطل کرنے سے متعلق ان کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق عدالت نے کہا تھا کہ ان کی مرکزی اپیلیں پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان اور بشریٰ بی بی نے دلیل پیش کی ہے کہ ہائی کورٹ نے اپیل کو قابلِ سماعت قرار دینے کے باوجود مقدمے کے اہم قانونی نکات پر توجہ نہیں دی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ابتدائی شواہد کا جائزہ لیے بغیر سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سماعت کے دوران عدالت نے ضمانت دی تھی اور الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ مزید الزام عائد کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو (NAB) نے بار بار التوا مانگ کر اپیل کے عمل کو طول دیا، جس کے باعث انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔
درخواست میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی حراست کے دوران صحت سے متعلق سنگین خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ عمران خان آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں اور خراب صحت کے باوجود انہیں رہا نہ کرنا ناانصافی ہے۔ درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ طویل عرصے تک تنہائی کی قید کے باعث عمران خان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، جبکہ ان کی گرفتاری کا طریقہ بھی غیرقانونی اور غیرذمہ دارانہ تھا۔ پی ٹی آئی کے بانی نے سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دینے، سزا معطل کرنے اور عمران خان و بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…