کابل: خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب پاکستان کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے متعدد سرحدی اضلاع پر فضائی حملے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ہی خاندان کے تقریباً 23 افراد ملبے تلے دب جانے کی خبر نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائی کارروائیوں میں صوبہ پکتیکا کے برمل اور اُرگون اضلاع کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی، بہسود اور غنی کھیل علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سب سے زیادہ تباہی ضلع بہسود میں دیکھی گئی جہاں ایک رہائشی مکان مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے وقت گھر میں موجود تمام افراد سو رہے تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
مقامی پولیس افسر سعید طیب حماد کے مطابق حملے میں نشانہ بننے والا مکان عام شہریوں کا تھا جس میں ایک مدرسہ بھی قائم تھا۔ دھماکے کے بعد عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی اور خاندان کے تقریباً 23 افراد ملبے کے نیچے دب گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی شروع کرتے ہوئے اب تک چار زخمی افراد کو زندہ نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے لگے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بہسود سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں تاہم حتمی اعداد و شمار امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی سرحد پار موجود شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔ پاکستانی حکام کے مطابق بارمال ضلع میں ڈرون کے ذریعے کم از کم سات اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے بتایا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کارروائی کے دوران کسی رہائشی علاقے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا اور دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ ادھر افغان طالبان حکومت نے فضائی حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ طالبان قیادت نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور مناسب وقت پر اس کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق کابل اور قندھار میں ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے ہیں جن میں سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سفارتی و عسکری ردعمل پر غور کیا جا رہا ہے۔ افغان حکام نے سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت خطے کے اہم ممالک کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں نے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو ایک بار پھر نازک مرحلے پر پہنچا دیا ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی کے لیے فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو سرحدی علاقوں میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…