پاکستان کے خیبر پختونخوا میں خطرناک حملہ ہوا ہے، جس میں 13 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
Pakistani Army Suicide Attack: پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبہ میں ہفتہ کے روز ایک خود کش حملے میں کم از کم 13 فوجی مارے گئے ہیں۔ وہیں، 10 فوجی بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایک فوجی قافلہ شمال-مغربی ضلع کے نارتھ وزیرستان سے گزر رہا تھا۔ یہ علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور لمبے وقت سے دہشت گردی سے متاثر رہا ہے۔
حملے میں خود کش حملہ آورنے دھماکوں سے بھری گاڑی کو قافلے سے ٹکرا دیا، جس سے خطرناک دھماکہ ہوا۔ اس حملے میں کئی جوان شدید طورپرزخمی بھی ہوگئے ہیں۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے، لیکن مانا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) یا اس سے منسلک کسی گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ یہ علاقہ پہلے بھی ایسے خطرناک حملوں کا گواہ رہا ہے۔ فوج اورسیکورٹی ایجنسیاں علاقے میں سرچ آپریشن چلا رہی ہیں، جبکہ زخمیوں کو قریبی فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس حملے نے پاکستان کے لاء اینڈ آرڈر پر پھر سے بڑے سوال کھڑے کردیئے ہیں۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 میں دوسرے مقام پرپاکستان
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کی تازہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں سے اموات کی تعداد 2024 میں خطرناک شکل اختیارکرگئی ہے۔ جہاں 2023 میں دہشت گردانہ حملوں میں 748 لوگوں کی اموات ہوئی تھی۔ وہیں 2024 میں یہ تعداد 1,081 تک پہنچ گئی ہے، جو تقریباً 45 فیصد کا اضافہ ہے۔
اس اضافہ کے سبب پاکستان اب دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں دوسرے مقام پر آگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقے شدت پسندانہ سرگرمیوں کے مرکز بن چکے ہیں، جہاں سیکورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں دونوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنے کے معاملے پر بھی اپوزیشن کو نشانہ…
ایشین کرکٹ کونسل کے مینز رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ کے لیے 15 رکنی انڈیا اے…
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیر کو وزیر اعظم…
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پی ایم کُسم اسکیم کے تحت 30 لاکھ…
وزیرداخلہ نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر الزام لگایا کہ انہوں نے پوری ریاست کو…
فٹنس اور ماحول دوست آمدورفت کو فروغ دینے کے لیے شہر کے اہم مقامات پر…