پاکستان میں ایک بارپھرسیاسی ہلچل اورممکنہ اقتدارکی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں نے زورپکڑلیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، دارالحکومت اسلام آباد کومختلف مقامات پرکنٹینرلگا کرسیل کردیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کی حکومت کودرپیش چیلنجزاورعسکری قیادت کے کردارپربھی بحث تیزہوگئی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کے درمیان اختلافات اب کھل کرسامنے آگئے ہیں۔ اسی دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیرکے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے محسن نقوی نے ملک کے نظامِ حکومت پرسخت تنقید کرتے ہوئے ایک اوربڑا بیان دیا ہے۔
محسن نقوی کا اپنی ہی حکومت پرسخت حملہ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے، جس میں ججوں، بیوروکریٹس، سیاست دانوں اوربینکاروں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث ہیں، جوگزشتہ 21 برس سے رشوت ستانی میں مصروف رہے ہیں۔ اگرچہ محسن نقوی نے کسی فرد یا ادارے کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اوراسے شہبازشریف حکومت پربراہ راست تنقید قراردیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے اپنی تقریرمیں فوج کا کوئی ذکرنہیں کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا ہدف سول حکومت اوراس کی کارکردگی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں اورآرمی چیف جنرل عاصم منیرکی مبینہ حمایت وزیراعظم شہبازشریف کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
اقتدار کے حوالے سے نئی قیاس آرائیاں
دفاعی امورکے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ محسن نقوی طویل عرصے سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوارکے طورپردیکھے جا رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان ثالثی کے معاملے میں بھی جنرل عاصم منیر نے شہبازحکومت کے بجائے محسن نقوی کوخصوصی نمائندہ بنایا تھا۔ دوسری جانب، بلوچستان اورپاکستان کے زیرانتظام کشمیر(پی اوکے) میں بڑھتے ہوئے داخلی چیلنجزکے تناظرمیں بھی مختلف سیاسی تجزیے سامنے آرہے ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ عسکری قیادت سول حکومت پراپنا اثرورسوخ مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
پی ایم ایل (ن) اورپیپلزپارٹی خاموش
رپورٹس کے مطابق حکمران اتحاد کی دوبڑی جماعتیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اورپاکستان پیپلزپارٹی، اس معاملے پرکھل کرکوئی ردعمل دینے سے گریزکررہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اورسندھ میں پیپلزپارٹی کی سیاسی طاقت کو دیکھتے ہوئے دونوں جماعتیں موجودہ صورتحال پرمحتاط رویہ اختیارکئے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف کا محسن نقوی پرجوابی وار
دوسری جانب، وزیر دفاع خواجہ آصف نے محسن نقوی کے بیانات پرسخت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی گزشتہ 3 برس سے اہم عہدوں پرفائزہیں اورکئی معاملات میں وہ وزیراعظم کوبھی جواب دہ نہیں رہے۔ خواجہ آصف نے طنزیہ اندازمیں کہا، “اگر اتنا بااختیارشخص بھی نظام کی شکایت کررہا ہے توپھرباقی وزراء کوگھرچلے جانا چاہئے۔” انہوں نے محسن نقوی کومشورہ دیا کہ ملک کوبدلنے کی بات کرنے سے پہلے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اوروزارتِ داخلہ کے نظام کوبہتربنائیں۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
پاکستان میں جاری اس سیاسی کشیدگی کے بعد ایک بارپھراقتدارمیں ممکنہ تبدیلی اورفوج کے کردارسے متعلق قیاس آرائیاں زورپکڑرہی ہیں۔ تاہم اب تک حکومت، فوج یا دیگرمتعلقہ اداروں کی جانب سے ایسی کسی ممکنہ آئینی یا غیرآئینی تبدیلی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے اورصورتحال پرملک بھرکی نظریں مرکوزہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…
بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…