بین الاقوامی

Pakistan Journalists Life Imprisonment: پاکستان میں صحافت پر حکومت کا شکنجہ، عمران خان کی حمایت کرنے پر چار صحافیوں کو عمر قید

پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کرنا چار صحافیوں کو مہنگا پڑ گیا ہے۔ ملک کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک متنازع فیصلے میں چار صحافیوں سمیت آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سزا پانے والے افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے عمران خان کی حمایت میں بیانات اور ٹویٹس کیے، جو مبینہ طور پر عوام کو اکسانے اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سبب بنے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان سرگرمیوں سے معاشرے میں بے چینی اور بدامنی پھیلی، اس لیے انہیں انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جرم قرار دیا گیا۔

سزا پانے والوں میں معروف صحافی، یوٹیوبر اور سیاسی مبصر شامل ہیں۔ ان میں سید اکبر حسین، وجاہت سعید خان (صحافی)، عادل راجہ (سابق فوجی افسر جو بعد میں یوٹیوبر بنے)، معید پیرزادہ (تجزیہ کار)، حیدر رضا مہدی (کمنٹیٹر) اور صابر شاکر کے نام شامل ہیں۔ عدالت کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد اس وقت پاکستان سے باہر مقیم ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کے خلاف سخت سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے عمر قید کے ساتھ ساتھ ان افراد پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو سزا میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان میں صحافیوں کے خلاف اب تک کی سخت ترین کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ مئی 2023 کے واقعات سے جڑا ہے، جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے حامیوں نے ملک بھر میں شدید احتجاج کیا تھا۔ 9 مئی کو ہونے والے ان مظاہروں کے دوران کئی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد حکومت اور فوج نے تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور عمران خان کے حامیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پر سرگرم صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

صحافیوں کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر عالمی سطح پر ردِعمل سامنے آیا ہے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سی پی جے نے اسے سیاسی بنیادوں پر کی گئی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آزاد صحافت کو دبانے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں جمہوری اقدار، آزادیٔ اظہار اور صحافتی آزادی کے لیے ایک خطرناک مثال ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Google Deepmind: فوج میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر گوگل میں گھمسان، سہولت یا سلامتی کے لیے خطرہ؟ جانیے پورا معاملہ

گوگل ڈیپ مائنڈ کے محققین اور انجینئروں نے پینٹاگون اور اسرائیلی فوج کے ساتھ معاہدوں…

23 minutes ago

World Polio Day 2026: عالمی یومِ پولیو 2026: بچوں کے صحت مند مستقبل کی جانب ایک قدم، جانیں ٹیکہ کاری کی اہمیت

نئی دہلی، 23 اکتوبر (آئی اے این ایس): پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے،…

51 minutes ago

Delhi HC Dismisses Neha Bora’s Petition: دہلی ہائی کورٹ نے آئسا کی صدر نیہا بورا کی خارج کی عرضی، دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت

امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن سے متعلق…

1 hour ago

Asian Para Games: جیولن تھرو میں ہندوستان کا دبدبہ، عالمی چیمپئن سمیت انتل نے گولڈ اور مہندر نے سلور میڈل جیتا

ناگویا: ہندوستان کے پیرا اولمپک اور عالمی چیمپئن سمیت انتل نے ایک اور بڑی کامیابی…

1 hour ago