بین الاقوامی

Khawaja Asif Controversial Statement: کس کو اغوا کرانا چاہتا ہے پاکستان؟ خُواجہ آصف کا ترکی کو ٹرمپ کے خلاف اشتعال انگیز مشورہ

اسلام آباد: پاکستانی وزیر دفاع خُواجہ آصف نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو “انسانیت کا مجرم” قرار دیتے ہوئے امریکہ اور ترکی سے اپیل کی کہ نتن یاہو کو اغوا کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف تنازع کھڑا کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سبب بھی بنا ہے۔ خُواجہ آصف نے یہ بیان 3 جنوری کو ایک نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) کے انٹرویو میں دیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ نتن یاہو کو اغوا کرے اور عدالت میں پیش کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے ترکی کا نام بھی لیا اور کہا کہ ترکی نتن یاہو کو اغوا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پورا پاکستان اس کے لئے دعا گو ہے۔

نتن یاہو کو “انسانیت کا مجرم” قرار
خُواجہ آصف نے اپنے موقف کی حمایت کے لئے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے نومبر 2024 میں جاری کئے گئے گرفتاری وارنٹ کا حوالہ دیا، جو نتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلینٹ کے خلاف تھے۔ آصف نے کہا کہ نتن یاہو “انسانیت کا سب سے بڑا مجرم” ہے اور دنیا کو چاہیے کہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ تاہم اسرائیل ہمیشہ سے ان وارنٹس کو غیر قانونی اور سیاسی مقصد کے تحت جاری ہونے والا قرار دیتا رہا ہے۔

وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری سے پیدا شدہ “مشورہ”
پاکستانی وزیر کا یہ بیان اچانک نہیں آیا۔ پس منظر میں 3 جنوری کو امریکی فوج کی وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کا واقعہ ہے۔ مادورو پر “نارکو دہشت گردی” کے الزامات ہیں اور امریکی فوج نے انہیں ملک سے باہر لے جا کر گرفتاری عمل میں لائی۔ خُواجہ آصف نے اس مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ مادورو کو پکڑ سکتا ہے تو نتن یاہو کو کیوں نہیں؟

ترکی اور ٹرمپ کا زاویہ
خُواجہ آصف نے ترکی کو براہِ راست اشتعال انگیز مشورہ دیا کہ وہ نتن یاہو کو اغوا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے اس بیان کو بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بہت سنجیدہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ کسی خودمختار ملک کے سربراہ کے خلاف تشدد یا اغوا کی ترغیب کے مترادف ہے۔

اصل مقصد اور عالمی ردعمل
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اس طرح کے بیانات کے ذریعے مسلم ممالک میں خود کو فلسطین کا سب سے بڑا حمایتی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، ایک ذمہ دار عہدے دار کی جانب سے عوامی طور پر اغوا کی بات کرنے سے پاکستان کی بین الاقوامی شبیہہ پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ اس واقعے نے عالمی سیاست میں پاکستان کے موقف اور ردعمل پر شدید بحث کو جنم دیا ہے اور ممکنہ سفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح حساس سیاسی بیانات عالمی تعلقات اور بین الاقوامی امن و امان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

2 hours ago