پاکستان میں 7 سالہ بچے کے خلاف مقدمہ درج
اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے بلوچستان میں سات سالہ بچے کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی مذمت کی ہے۔ اس نے اس اقدام کو ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی‘ اور ملک میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔
ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کیا کہا ؟
ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’بلوچستان کے تربت میں ایک 7 سالہ کمسن بچے کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آردرج کرنا انتہائی قابل مذمت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف قانون کی روح کے منافی ہے، بلکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک معصوم بچے نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں انسانی حقوق کے کارکن گلزار دوست کی تقریر شامل تھی۔ محض ایک ویڈیو کو شیئر کرنے کو دہشت گردی قرار دینا ریاستی طاقت کے غیر متوازن استعمال کی ایک مثال ہے۔‘‘
اس ایف آئی آر کو فوراً منسوخ کرنے کا مطالبہ
انسانی حقوق کی تنظیم نے اس ایف آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کرنے، بچے اور اس کے خاندان کو ہراساں کرنے سے بچانے اور بچوں کے حقوق پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں سے متعلق معاملات میں بچوں کے تحفظ کے قوانین کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے کو کہا۔
نابالغ بچوں کے خلاف کیس پر گہری تشویش
ایچ آر سی پی نے بلوچستان حکومت، وزارت انسانی حقوق، چیف جسٹس آف پاکستان اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ بدھ کے روز، ایچ آر سی پی نے ملک کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں گزشتہ ایک سال سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت چل رہے نابالغ بچوں کے خلاف مقدمے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
نابالغ ملزمان کے ٹرائل کو فوراً روکنے کی اپیل
انسانی حقوق کی تنظیم نے بچوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ نابالغ ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاری ٹرائل کو فوری طور پر روکا جائے اور کیس کو جووینائل کورٹ میں منتقل کیا جائے۔
ایچ آر سی پی نے نے کہا، ’’یہ انتہائی تشویشناک اور ناقابل فہم ہے کہ ان بچوں کے نابالغ ہونے کے واضح ثبوت کے باوجود انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس طرح کی عدالتی کارروائی نہ صرف پاکستان کے جووینائل جسٹس سسٹم آف پاکستان ایکٹ 2018 کی خلاف ورزی ہے بلکہ بچوں کے بنیادی انسانی حقوق اور آئینی تحفظات کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…