تریشولی، نیپال: نیپال کے تریشولی خطے کے بعض علاقوں میں سیلابی پانی نے مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو بہا دیا، لیکن تباہی کے درمیان پودینے کے سبز رنگ کا ایک دو منزلہ مکان تقریباً محفوظ کھڑا رہا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس عمارت نے تباہی کی شدت کو نمایاں کر دیا ہے، جسے سیلاب سے بچ جانے والے لوگ اب بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مکان کے اردگرد کا منظر تباہی کی ایک الگ داستان بیان کر رہا ہے۔ کئی عمارتیں بہہ چکی ہیں، پل غائب ہو گئے ہیں اور متعدد خاندان اپنے گھر اور روزگار پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی رہائشی پھول مایا لاما نے اے این آئی کو بتایا کہ ابتدا میں لوگوں کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر آنے والا سیلاب ان کے علاقے تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم گھر پر تھے اور روزمرہ کے کام کر رہے تھے۔ میری قریب ہی کپڑوں کی ایک دکان تھی۔ میں نے دکان کھولی، صفائی کی اور وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ جیسے ہی ہمیں اطلاع ملی کہ تبت میں گلیشیئر جھیل پھٹ گئی ہے اور تیمورے گاؤں ختم ہو گیا ہے، سیابروبیسی بھی ختم ہو گیا ہے، تو سب لوگوں کو خبردار کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ یہاں سے بھاگ جاؤ۔‘‘ لاما نے بتایا کہ پولیس لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی وارننگ دے رہی تھی۔ انہوں نے کہا ’’جب ہم نے دیکھا تو سیلاب ہماری طرف آ رہا تھا، اس کی اونچائی تقریباً پہاڑ جتنی تھی۔ ہم سب بھاگ گئے۔ اس افراتفری کے دوران بزرگ افراد، اسکول کے بچے، اسکول بسیں اور ہمیں خبردار کرنے والی پولیس کی گاڑی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔‘‘
’’ہمارا گھر بھی تباہ ہو گیا، کچھ نہیں بچا‘‘
پھول مایا لاما نے بتایا کہ ان کا اپنا گھر بھی تباہ ہو گیا اور گزشتہ چھ دن سے ان کا خاندان کسی دوسرے شخص کے گھر میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمارا گھر بھی تباہ ہو گیا۔ کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ اس وقت ہم گاؤں میں کسی دوسرے شخص کے گھر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ چھ دن ہو گئے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کھانا کہاں سے ملے گا، پانی کہاں سے آئے گا یا رہیں گے کہاں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کے آس پاس رہنے والے کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاما کے مطابق ’’ہمارے آس پاس سب لوگ محفوظ ہیں، لیکن ہمارے گھر کے پاس ایک خاتون اور اس کا بیٹا غائب ہو گئے۔ دوسری طرف ایک ہوٹل تھا، وہاں سے ایک بھائی اور بہن بھی لاپتہ ہو گئے۔ ایک بزرگ شخص جو یہیں بیٹھے ہوئے تھے، وہ بھی غائب ہو گئے۔ ہمارے گھر کے آس پاس کے پانچ افراد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔‘‘
بچوں کو اسکول بس کے بجائے کار میں لے جانا زندگی بچا گیا
پرکاش تمانگ کے لیے اس تباہی کے ساتھ اپنے بچوں کے محفوظ رہنے کا اطمینان بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا گھر بھی سیلابی ریلے میں مکمل طور پر بہہ گیا۔ تمانگ نے اے این آئی کو بتایا ’’میں یہیں رہتا تھا، میرا گھر یہیں تھا۔ سیلاب میں سب کچھ بہہ گیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس روز انہوں نے اپنے دونوں بچوں کو اسکول بس سے بھیجنے کے بجائے اپنی کار میں اسکول پہنچایا تھا۔ تمانگ نے کہا ’’خدا کا شکر ہے کہ وہ بچ گئے۔ اس کے علاوہ سب کچھ ختم ہو گیا۔‘‘ اپنے خاندان کو محفوظ بنانے کے لیے تمانگ انہیں کھٹمنڈو لے گئے، جہاں رشتہ دار کے گھر ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ متاثرہ علاقے میں واپس آئے تاکہ اپنے تباہ شدہ گھر کی صورتحال دیکھ سکیں اور یہ معلوم کر سکیں کہ حکام نقصانات کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا ’’میں اپنے خاندان کو کھٹمنڈو لے گیا اور انہیں ایک رشتہ دار کے گھر ٹھہرایا۔ میں آج صبح حالات دیکھنے اور یہ جاننے کے لیے واپس آیا کہ حکام نقصانات کا اندراج کر رہے ہیں یا نہیں۔‘‘
نیپال میں ہلاکتیں 903 تک پہنچ گئیں
یہ تباہی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیپال حالیہ برسوں کی بدترین سیلابی آفات میں سے ایک سے نمٹ رہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کے مطابق پیر تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 903 ہو گئی، جبکہ تقریباً 4,247 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 10,451 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ چتون میں سب سے زیادہ 272 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس کے بعد نولپراسی ایسٹ میں 207، نولپراسی ویسٹ میں 151، نواکوٹ میں 95، گورکھا میں 62، دھادنگ میں 55، تنہون میں 37 اور راسوا میں 24 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…