ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوسکتا ہے اور یہ اندازہ اب سچ ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے ،چونکہ تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں کیونکہ امریکہ نے گزشتہ روز اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اہم جوہری مقامات پر حملے کیے، جس سے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 1.92 ڈالر یا 2.49 فیصد اضافے کے ساتھ 78.93 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 1.89 ڈالر یا 2.56 فیصد بڑھ کر 75.73 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔شیئر بازار بھی کھلتے ہی اوندھے منہ گر گیا ہے،لیکن اس سے زیادہ پریشانی کی بات عالمی برادری کیلئے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ایران اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اور اس حملے نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے بڑھنے کے خدشات کو ہوا دے دی ہے۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مزید تقویت دی ہے، خاص طور پر اس امکان کے پیش نظر کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً ایک پانچویں سپلائی گزرتی ہے۔ ایران کی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے، حالانکہ ایران نے ماضی میں ایسی دھمکیوں پر عمل نہیں کیا۔ اسپارٹا کموڈٹیز کی سینئر تجزیہ کار جون گوہ نے کہا کہ تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ گولڈمین سیکس نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ایک ماہ کے لیے نصف ہو جاتی ہے تو برینٹ کی قیمت عارضی طور پر 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، حالانکہ وہ اب بھی بڑے پیمانے پر سپلائی میں خلل نہ پڑنے کا مفروضہ رکھتے ہیں۔
عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کار اس حملے کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو پہلے ہی ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اسٹاک ایکسچینجز نے اتوار کو حملوں کے باوجود نسبتاً پرسکون ردعمل دکھایا، جبکہ اسرائیل کا تل ابیب اسٹاک انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مفادات یا خلیجی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے تنازع کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ جاپان کی شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری جہازوں کو خلیج میں کم سے کم وقت گزارنے کی ہدایت کی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
نیپال کے پہاڑی اور ترائی علاقوں میں مسلسل بارش کے بعد بہار کے میدانی علاقوں…
ایشین گیمز میں ایشا کا یہ تیسرا سلور میڈل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے…
ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…
سمستی پور: بہار کے سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر میں ایک انتہائی نایاب…
ارون راج نے کہا کہ جب اسکیم کے آغاز کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے…
سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…