اوسلو/واشنگٹن: نوبل کمیٹی نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ سال 2025 کا نوبل امن انعام وینیزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے جمہوریت کی منصفانہ و پُرامن منتقلی کی جدوجہد کے اعتراف میں وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچادو کو دیا جارہا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مہینوں سے نوبل امن انعام کے لیے اپنی نامزدگی کی مہم چلا رہے تھے اور یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اگر انہیں یہ انعام نہیں دیا گیا تو یہ ’امریکہ کی توہین‘ ہوگی۔
’’ہمارے فیصلے ہمت اور دیانت پر مبنی ہوتے ہیں‘‘
نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنیز سے جب پوچھا گیا کہ ٹرمپ کو اس انعام کے لیے کیوں نہیں چُنا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: ’’یہ کمیٹی ایک ایسے کمرے میں بیٹھتی ہے جو اُن تمام نوبیل یافتگان کی تصویروں سے بھرا ہے جنہوں نے دنیا میں حوصلہ اور دیانت کی مثال قائم کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے تمام فیصلے الفریڈ نوبیل کی وصیت اور اُن کے امن کے نظریے پر مبنی ہوتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ کے لیے ایک دوہرا چیلنج
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس اپوزیشن رہنما ماریا کورینا کو نوبیل انعام دیا گیا ہے، ان کی جمہوری تحریک کو امریکی حکومت طویل عرصے سے سپورٹ کرتی رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، نوبیل کمیٹی کے اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وہ سیاسی دباؤ یا مقبول بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ فیصلے کرتی ہے۔ ناروے کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے تحقیقاتی ڈائریکٹر ہیلوارڈ لیرا نے کہا: ’’یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیٹی کسی بھی سیاسی رہنما یا طاقتور ملک کے دباؤ میں نہیں آتی۔‘‘
جمہوریت کی علامت، آمریت کے خلاف مزاحمت
ماریا کورینا مچادو وینیزویلا کی مشہور اپوزیشن رہنما ہیں جنہیں صدر نکولس مادورو کے خلاف احتجاج کی قیادت پر کئی بار گرفتار اور دھمکایا گیا۔ گزشتہ برس وہ ہزاروں مظاہرین کے ساتھ احتجاج کر رہی تھیں جب انہیں عارضی طور پر حراست میں لیا گیا۔ ان کا احتجاج متنازعہ صدارتی انتخاب کے خلاف تھا جس میں مادورو نے تیسری مدت کے لیے اقتدار سنبھالا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو سے ڈونلڈ ٹرمپ اور ماریا کورینا دونوں کا اختلاف ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کو ’’امریکی انصاف سے فرار شدہ مجرم‘‘ اور ’’منشیات کے نیٹ ورک کا سرغنہ‘‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ حکومت نے مادورو کی گرفتاری پر انعامی رقم 50 ملین ڈالر تک بڑھا دی تھی۔ اسی موقع پر ماریا نے ’ایکس‘ پر لکھا: ’’ہم وینیزویلا کے عوام صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے ملک میں غیر قانونی طاقت کے ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھایا۔‘‘
ٹرمپ کے لیے مایوسی لیکن ماریا کے لیے تاریخی لمحہ
نوبیل کمیٹی نے اس سال کے انعام کے اعلان کے دوران ماریا کورینا کی ’’مسلسل جدوجہد‘‘ اور ’’امن و انصاف کی بنیاد پر سیاسی تبدیلی‘‘ کو سراہا۔ مچادو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ انعام صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ وینیزویلا کے عوام کی جمہوریت، انصاف اور آزادی کے لیے قربانیوں کا اعتراف ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے لیے یہ اعلان ایک سیاسی دھچکے سے کم نہیں، کیونکہ ان کے قریبی حلقے اس مہم کو نوبیل انعام کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کا ذریعہ سمجھ رہے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ ٹیم مقابلے میں سُروچی سنگھ اور کمل جیت نے 484.6…
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…