بین الاقوامی

Netanyahu Claims After Seizure of Beaufort Castle: ’’پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آئے ہم…‘‘، بیوفورٹ قلعے پر قبضے کے بعد نیتن یاہو کا دعویٰ

تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بیوفورٹ قلعے اور اس کے اطراف کی اسٹریٹجک پہاڑی پر اسرائیلی فوج کے قبضے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی پالیسی میں ’بڑی تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج حزب اللہ کے خلاف اپنی زمینی کارروائیوں کو وسعت دیتے ہوئے جنوبی لبنان میں مزید پیش قدمی کر رہی ہے۔

بیوفورٹ پر قبضہ پالیسی میں بڑی تبدیلی

اپنے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا، ’’بیوفورٹ پر قبضہ ایک اہم مرحلہ اور ہماری پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ میں نے ہدایت دی ہے کہ ان علاقوں میں ہماری موجودگی مزید مضبوط اور وسیع کی جائے جو پہلے حزب اللہ کے زیرِ کنٹرول تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب اپنی سکیورٹی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر انداز میں نافذ کر رہا ہے۔

نیتن یاہو نے 1982 کی جنگ کو کیا یاد

نیتن یاہو نے یاد دلایا کہ 1982 کی پہلی لبنان جنگ کے دوران بیوفورٹ قلعے پر قبضہ اسرائیلی معاشرے میں شدید اختلافات اور بحث کا باعث بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے 18 سالہ قبضے (1982 تا 2000) کے دوران اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھا، لیکن سال 2000 میں اسرائیلی فوج وہاں سے واپس چلی گئی تھی۔

خوف کی دیوار توڑ دی گئی: نیتن یاہو

نیتن یاہو نے مزید کہا، ’’آج ہم بیوفورٹ میں ایک مختلف انداز سے واپس آئے ہیں۔ ہم متحد، پُرعزم اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوٹے ہیں۔ ہم نے خوف کی دیوار توڑ دی ہے اور اب پہل ہمارے ہاتھ میں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیل شام، غزہ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سرحدوں سے باہر سکیورٹی زون قائم کر رہا ہے۔

ہزاروں جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق، ان میں سے 3 ہزار جنگجو گزشتہ سال ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد مارے گئے۔  700 جنگجو صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہلاک کیے گئے۔ حالانکہ، ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

مشن مکمل ہونے تک جاری رہے گی کارروائی

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس میں وقت لگے گا، لیکن ہم اپنا مشن ضرور مکمل کریں گے۔‘‘ نیتن یاہو کے مطابق اپریل کے وسط میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اب تک 13 اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کی جان جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال اسرائیل کو اپنی سکیورٹی پالیسی مزید سخت بنانے پر مجبور کر رہی ہے۔

خطے میں کشیدگی برقرار

بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی قبضے اور اس کے بعد نیتن یاہو کے سخت موقف نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

9 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

10 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

10 hours ago