بین الاقوامی

Nepal PM’s Statement on India Border Row: ’’بھارت کے ساتھ سرحدی تنازع مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے کر لیں گے حل…‘‘، نیپالی وزیر اعظم بالین شاہ کا پارلیمنٹ میں بیان

کٹھمنڈو: نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ نے ایوانِ نمائندگان میں کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ جاری سرحدی تنازعات کو جلد ہی مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد پارلیمنٹ سے ان کا یہ پہلا خطاب تھا۔ ایوانِ نمائندگان کے اجلاس کی براہِ راست نشریات کی گئیں۔ وزیر اعظم شاہ نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف نیپال کی زمین پر بھارت کے مبینہ قبضے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے حل کے لیے دونوں ممالک کو باہمی بات چیت کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’دونوں فریقوں کو بیٹھ کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے گفتگو کرنی چاہیے۔‘‘

لپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی کا معاملہ

ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں لپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی کے راستے بھارت اور چین کے درمیان تجارت سے متعلق معاملات اٹھائے گئے تھے، وزیر اعظم نے کہا کہ ان تنازعات کا حل بھی سفارتی مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم شاہ نے بتایا کہ سرحدی تنازع کے سلسلے میں انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے بھی بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق نیپال نے اس معاملے پر بھارت کو ایک باضابطہ سفارتی نوٹ بھیجا تھا، جس کا جواب بھی موصول ہو چکا ہے۔

ماہرین کی مشترکہ ٹیم بنانے پر اتفاق

وزیر اعظم کے مطابق بھارت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے مورخین، سروے ماہرین اور دیگر متعلقہ ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو بات چیت کے ذریعے تنازع کا قابلِ قبول حل تلاش کرے گی۔

پارلیمنٹ میں سوال و جواب کا خصوصی سیشن

نیپالی اخبار دی کٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم شاہ نے اسپیکر ڈی پی آریال سے ارکانِ پارلیمنٹ کے سوالات کے جواب دینے کے لیے وقت طلب کیا۔ وزیر اعظم نے ہاتھ اٹھا کر اجازت مانگی، جسے اسپیکر نے منظور کرتے ہوئے انہیں ہاؤس روسٹرم (پوڈیم) سے خطاب کرنے کی اجازت دی۔

ارکان کے سوالات اور پارلیمانی ضوابط پر بحث

اس کے بعد اسپیکر نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کو اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے سوالات کرنے کی اجازت دی۔ تاہم بعض ارکان نے اس طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کے مطابق ہے یا نہیں۔

ماضی میں کیا طریقۂ کار تھا؟

ماضی کی روایت کے مطابق اسپیکر وزیر اعظم کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کرتے تھے اور ارکانِ پارلیمنٹ اپنے سوالات پہلے سے تحریری صورت میں جمع کراتے تھے۔ اس بار وزیر اعظم کے براہِ راست سوالات کے جواب دینے کے انداز نے پارلیمانی کارروائی میں ایک مختلف طرزِ عمل کو جنم دیا، جس پر ایوان میں بحث بھی دیکھنے میں آئی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

11 minutes ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

1 hour ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

1 hour ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

2 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

3 hours ago

PM Modi Chintan Shivir: سیوا تیرتھ میں وزرا کا ’مہامنتھن‘، پی ایم مودی کا 4 روزہ چنتن شِور شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…

3 hours ago